کانگریس اور بی جے پی ارکان کا ایوان سے واٹ آؤٹ، خانگی انجینئرنگ کالجس کو غیر مسلمہ قارر دینے پر بحث
حیدرآباد۔/17مارچ، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں خانگی انجینئرنگ کالجس کو غیر مسلمہ قرار دینے اور طلبہ کو تعلیمی فیس کی عدم اجرائی کے مسئلہ پر اسمبلی میں آج گرما گرم مباحث ہوئے۔ کانگریس اور بی جے پی نے حکومت پر انجینئرنگ کالجس کے خلاف کارروائیوں اور طلبہ کو تعلیمی فیس کی عدم اجرائی کا الزام عائد کرتے ہوئے ایوان سے واک آؤٹ کردیا جبکہ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم کڈیم سری ہری نے ایوان کو تیقن دیا کہ خانگی انجینئرنگ کالجس کے مسائل پر بہت جلد فلور لیڈرس اور کالجس کے نمائندوں کے ساتھ اجلاس طلب کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ حکومت فیس باز ادائیگی اسکیم کو جاری رکھے ہوئے ہے اور حکومت نے گزشتہ دو برسوں کے تعلیمی فیس کے بقایا جات جاری کردیئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مالیاتی سال 2015-16 کیلئے تعلیمی فیس کے طور پر 2500کروڑ روپئے کا بوجھ سرکاری خزانہ پر عائد ہوگا اور 16لاکھ طلبہ کو فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے تحت تعلیمی فیس ادا کی جائے گی۔ وقفہ سوالات میں خانگی انجنئرنگ کالجس کو بند کرنے کے مسئلہ پر سوال کے دوران اپوزیشن اور حکومت کے درمیان تکرار ہوئی۔ اپوزیشن پارٹیاں اپنے موقف پر قائم تھیں کہ کالجس کو مختلف شرائط کی عدم تکمیل کا بہانہ بناکر نشانہ بنایا جارہا ہے تاکہ فیس باز ادائیگی اسکیم کے بوجھ کو کم کیا جاسکے۔ ڈپٹی چیف منسٹر و وزیر تعلیم نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ فیس باز ادائیگی اسکیم سے کوئی بھی مستحق طالب علم محروم نہیں رہے گا اور ہر مستحق غریب طالب علم کو حکومت فیس ادا کرنے کے عہد پر قائم ہے۔ انہوں نے بتایا کہ فیس باز ادائیگی کے بقایا جاتا کے تحت 1797کروڑ روپئے جاری کئے گئے۔ بی جے پی کے ارکان کشن ریڈی اور ڈاکٹر لکشمن نے الزام عائد کیا کہ حکومت فیس ری ایمبرسمنٹ اسکیم کے بوجھ سے بچنے کیلئے کالجس کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی فیس کی عدم اجرائی کے سبب نہ صرف کالجس بحران کا شکار ہیں بلکہ ہزاروں طلبہ کا تعلیمی مستقبل داؤ پر ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کالجس کے ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ اسٹاف کو تنخواہوں سے محروم رکھا گیا ہے۔ کڈیم سری ہری نے اعتراف کیا کہ تلنگانہ میں انجینئرنگ کا معیار تعلیم کافی گھٹ چکا ہے اور حکومت اسے بہتر بنانے کے مقصد سے کام کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ انجینئرنگ کالجس کے معائنہ کے دوران کئی حیرت انگیز انکشافات سامنے آئے ہیں جن میں قواعد کی خلاف ورزی کی کئی مثالیں ہیں۔ کڈیم سری ہری نے کہا کہ حکومت انجینئرنگ کالجس میں ایسے طلبہ کو تیار کرنا چاہتی ہے جو عالمی معیار پر پورا اُترے۔ انہوں نے بتایا کہ مئی 2014ء میں پہلی مرتبہ کالجس کا معائنہ کیا گیا جبکہ جولائی میں دوسری مرتبہ معائنہ کے دوران بنیادی ضرورتوں اور دیگر شرائط کی تکمیل کا جائزہ لیا گیا۔ شرائط کی عدم تکمیل کے سبب 163انجینئرنگ کالجس کو کونسلنگ کی اجازت نہیں دی گئی۔ کالجس انتظامیہ نے ہائی کورٹ میں درخواست پیش کی جس میں ہائی کورٹ نے شرائط کی تکمیل کے حق میں رائے دہی۔ اکٹوبر میں کالجس کا انتظامیہ سپریم کورٹ سے رجوع ہوا جس پر سپریم کورٹ نے تیسرے فریق کے ذریعہ کالجس کے معائنہ کی ہدایت دی جس میں مختلف اداروں کے ماہرین کو شامل کرنے کا مشورہ دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے 31 ڈسمبر تک حکومت کو فیصلہ کرنے کی ہدایت دی اور قطعی فیصلہ تک کالجس کو کونسلنگ کی اجازت کا مشورہ دیا۔ سپریم کورٹ نے کہا کہ داخلے ماہرین کی کمیٹی کی قطعی رپورٹ کے تابع رہیں گے۔ وزیر تعلیم کے مطابق حکومت کالجس کو غیر مسلمہ قرار دینے کی وجوہات پر مشتمل رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرے گی۔ انہوں نے بتایا کہ معائنہ کے دوران کئی کالجس میں نام نہاد فیکلٹی کا پتہ چلا، کئی کالجس ڈیری فارم اور پولٹری فارمس میں شروع کئے گئے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت کی جانب سے کی گئی کارروائی کو ابھی تک کسی کالج نے چیلنج نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت انجینئرنگ کالجس کو بند کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں رکھتی بجائے اس کے تعلیمی نظام کو باقاعدہ بنانا چاہتی ہے تاکہ معیاری طلبہ تیار ہوسکیں۔ انہوں نے طلبہ کو تیقن دیا کہ وہ اپنے تعلیمی مستقبل کے بارے میں اندیشوں کا شکار نہ ہوں۔ کالجس کے خلاف کارروائی کی صورت میں موجودہ طلبہ کو دیگر کالجس میں ٹرانسفرکردیا جائے گا اور بہر صورت ان کی تعلیم کا تحفظ ہوگا۔