نئی دہلی 28دسمبر (سیاست ڈاٹ کام) شاہی امام مولاناسیدا حمد بخاری نے عام انتخابات چند ماہ قبل طلاق ثلاثہ بل کو لوک سبھا میں ‘‘غیر ضروری عجلت’’ کے ساتھ منظور کروانے کوبی جے پی کا انتخابی حربہ قرار دیا ہے ۔یہاں جاری ایک بیان میں مولانا نے بی جے پی کے اس استدلال کو مسترد کردیا کہ وہ مسلم خواتین کے حقوق کی پاسبانی کیلئے یہ قدم اٹھارہی ہے اور پوچھا حکومت بتائے کہ اس کی کونسی ایسی پالیسی یا عمل ہے جس کا تعلق مسلمانان ہند کی فلاح وبہبود سے ہے ۔انہوں نے گئو کشی کے نام پرتشدد، منافرت کو بھی انتخابی حکمت عملی پر محمول کیا اور کہا کہ طلاق ثلاثہ بل کیلئے جو قانون بنایا جارہاہے اس کو قائمہ کمیٹی کے سپرد کر کے تمام متعلقہ فریقین اور ماہرین کی آراء لینے کے بجائے یہ جانتے ہوئے کہ راجیہ سبھا میں اسکا منظورہوناممکن ہی نہیں ، اس طرح منظور کیاجانا سیاست نہیں تو اور کیاہے ؟شاہی امام نے مسلم پرسنل لابورڈکو بھی اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بور ڈ طلاق ثلاثہ کے حوالے سے اپنی ذمہ داری اور فرائض منصبی ادا کرنے میں ناکام رہا۔ بورڈ کو شروع ہی اس معاملے پر اجتماعی رائے قائم کرنے کے لئے دیگر مسالک کو ساتھ لے کر چلنا چاہئے تھا اور زیر بحث طریقئہ طلاق سے ہونے والے مسلم خواتین کے استحصال پر قابوپانے کیلئے ضروری، انتظامی واہتمامی اصلاحات کے ساتھ ایک مناسب نکاح نامہ تجویز کرلیاجانا چاہئے تھا ۔امام بخاری نے کہاکہ وقت آگیا ہے کہ جہاں ایک طرف اپنی ناکامیوں کا اعتراف کیاجائے وہیں دوسری طرف باہمی اشتراک کی بنیاد پرایک ایسی حکمت عملی اور لائحہ عمل کی طرف بڑھاجائے جس سے اس طرح کی آئندہ ایسی صورتحال کا سامنا نہ ہو۔