طلاق ثلاثہ آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا

پرسنل لا بورڈ کے ترجمان خالد سیف اللہ رحمانی کا ردعمل ، مرکزی حکومت کا رویہ غیرجمہوری
حیدرآباد ۔ 19۔ستمبر (سیاست نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ طلاق ثلاثہ پر مرکزی حکومت کے آرڈیننس کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرے گا ۔ اس سلسلہ میں بورڈ کی لیگل کمیٹی جائزہ لے رہی ہے۔ سکریٹری مسلم پرسنل لا بورڈ اور ترجمان مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے سیاست سے بات چیت کرتے ہوئے حکومت پر غیر جمہوری طریقہ کار اختیار کرنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ مسلم پرسنل لا بورڈ آرڈیننس کا مکمل جائزہ لینے کے بعد ہی اپنی قطعی رائے قائم کرے گا، تاہم ابھی تک جو تفصیلات منظر عام پر آئی ہے ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ مرکزی حکومت کا رویہ غیر جمہوری ہے۔ انہوں نے کہاکہ پارلیمنٹ کا مانسون سیشن حال ہی میں ختم ہوا اور سرمائی سیشن جلد ہی شروع ہونے والا ہے۔ طلاق ثلاثہ سے متعلق بل راجیہ سبھا میں زیر التواء ہے ، اس کے باوجود مرکزی حکومت نے من مانی کے ذریعہ آرڈیننس جاری کردیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ آرڈیننس کی اجرائی سے قبل اسے پارلیمنٹ میں بحث کیلئے پیش کیا جاتا۔ مولانا خالد سیف اللہ رحمانی نے کہا کہ مرکز دوہرا معیار اختیار کئے ہوئے ہے اور آرڈیننس میں دو متضاد باتیں کہی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کے ذریعہ اگرچہ طلاق ثلاثہ کو کالعدم قرار دیا گیا لیکن اس کے ساتھ سزا کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب طلاق ثلاثہ کو آرڈیننس کے ذریعہ ختم کردیا گیا تو پھر سزا کس طرح دی جاسکتی ہے۔ مرکزی حکومت ایک طرف کہہ رہی ہے کہ ایک وقت میں تین طلاق واقع نہیں ہوں گے ۔ جب طلاق واقع نہیں ہوئی تو پھر سزا کے کیا معنی۔ مرکز یا تو طلاق ثلاثہ کو تسلیم کریں یا پھر سزا کی گنجائش کے جواز کو ثابت کریں۔ انہوں نے کہا کہ جب جرم ہوا ہی نہیں تو پھر سزا کی گنجائش کہاں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آرڈیننس کا بورڈ کی لیگل کمیٹی تفصیل سے جائزہ لے گی اور اس معاملہ کو سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔ مسلم پرسنل لا بورڈ کے اکابرین اور عہدیدار بھی اس مسئلہ کا جائزہ لیں گے۔