کابل ۔ 13 جون (سیاست ڈاٹ کام) افغانستان کی پولیس اور فوجیوں نے کابل اور دیگر شہروں کی سڑکوں پر تقریباً ہر کار کی تلاشی لی جس کا مقصد صدارتی انتخابات کے موقع پر طالبان کے امکانی خودکش حملوں کی کوشش ناکام بنانا تھا۔ شورش پسندوں نے دھمکی دی ہیکہ کل مراکز رائے دہی پر جبکہ رائے دہندے سابق وزیرخارجہ عبداللہ عبداللہ اور عالمی بینک کے سابق ماہر معاشیات اشرف غنی کے درمیان انتخاب کریں گے۔ دوسرے مرحلہ کی رائے دہی کل سے شروع ہوگی جبکہ امریکی زیرقیادت ناٹو فوجی تقریباً 10 سال کی جنگ کے بعد ملک کا تخلیہ کریں گے۔ طالبان کو 2001ء میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں کو پناہ دینے کا الزام عائد کرتے ہوئے امریکی حملہ میں اقتدار سے بیدخل کردیا گیا تھا۔
افغان عہدیدار اپریل میں پہلے مرحلہ کی رائے دہی کی کامیابی کا اعادہ کرنے کیلئے سخت جدوجہد میں مصروف ہیں۔ شورش پسندوں نے صرف ایک اعلیٰ سطحی حملہ رائے دہندوں کی طویل قطار پر کرنے کی ناکام کوشش کی تھی۔ فوج کے سربراہ جنرل شیر محمد کریمی نے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہیکہ ہمارے حفاظتی انتظامات گذشتہ انتخابات سے بھی بہتر رہیں گے۔ ہم نے اچھی منصوبہ بندی کی ہے اور ہماری فوج میں زبردست ہم آہنگی پائی جاتی ہے۔ سخت چوکسی اختیار کی گئی ہے۔ گذشتہ مرتبہ دشمن کو کاری ضرب کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ اس لئے انہوں نے دوسرے مرحلہ کی رائے دہی کو درہم برہم کرنے کا عہد کیا ہے۔