صوفیائے کرام کی تعلیمات کو عام کرنے کی ضرورت

حیدرآباد۔ 19 نومبر (سیاست نیوز) سرزمین اولیاء حیدرآباد پر سہ روزہ عالمی جشن خسرو کا 22 نومبر سے آغاز ہوگا۔ مرکزی مجلس چشتیہ کے زیراہتمام منعقد ہونے والے اس سہ روزہ جشن کا مقصد قومی اتحاد و یکجہتی کو فروغ دیتے ہوئے صوفیائے کرام کی تعلیمات کو عام کرنا ہے۔ مولانا مظفر علی صوفی نے آج ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ 22 تا 24 نومبر منعقد ہونے والے اس عالمی جشن خسرو کا آغاز چومحلہ پیالیس، خلوت مبارک میں ہونے والے صوفیانہ کلام کے ذریعہ ہوگا۔ 22 نومبر کی شام 6:30 بجے شہرۂ آفاق صوفی فنکار دھننجئے کول حضرت امیر خسرو کا کلام ساز پر پیش کریں گے۔ اس پروگرام میں داخلے کی عام اجازت رہے گی۔ شرکت کے خواہش مند درگاہ حضرت شیخ جی حالی ابوالعلائیؒ اُردو شریف پتھرگٹی سے دعوت نامہ حاصل کرسکتے ہیں۔ جناب مظفر علی صوفی نے بتایا کہ دوسرا سالانہ بین الاقوامی جشن خسرو منعقد کرنے کا مقصد فرقہ وارانہ ہم آہنگی، اتحاد اور یکجہتی کو فروغ دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ سہ روزہ جشن کے دوسرے دن یعنی 23 نومبر کو صبح 10:30 بجے ایک روزہ سیمینار بعنوان ’’تذکرہ خسرو‘‘ ہوٹل تاج بنجارہ میں منعقد ہوگا۔ جناب محمد محمود علی ڈپٹی چیف منسٹر تلنگانہ اس سیمینار میں بحیثیت مہمان خصوصی شرکت کریں گے۔ حضرت سید فضل متین چشتی گدی نشین درگاہ حضرت سلطان الہند خواجہ معین الدین چشتیؒ اس سیمینار کی صدارت کریں گے۔ مولانا خواجہ احمد نظامی سجادہ نشین بارگاہ محبوب الٰہیؒ ، ڈاکٹر سنینا سنگھ وائس چانسلر ایفلو، قونصل جنرل ایران متعینہ حیدرآباد آقا حسن نوریان، پروفیسر وائی سدرشن راؤ صدرنشین ہندوستانی قونصل برائے تاریخی تحقیق، جناب مراد عمر گلو قونصل جنرل ترکی،

جناب سید احمد پاشاہ قادری رکن اسمبلی اور جناب خواجہ شاہد پرو وائس چانسلر مولانا آزاد اردو یونیورسٹی بحیثیت مہمانان اعزازی شرکت کریں گے۔ اس ایک روزہ کانفرنس کے دوران ہندوستانی جامعات کے علاوہ ترکی و ایران سے تعلق رکھنے والی جامعات کے پروفیسرس مقالے پیش کریں گے۔ 24 نومبر کی شام 7:30 بجے شام درگاہ حضرت شیخ جی حالی ابوالعلائیؒ اُردو شریف پتھرگٹی میں اختتامی محفل سماع زیرنگرانی حضرت سید فضل المتین چشتی منعقد ہوگی۔ مولانا مظفر علی صوفی نے بتایا کہ ہندوستان میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لئے صوفیانہ کرام کی خدمات و تعلیمات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور حضرت امیر خسرو نے تہذیبی و ثقافتی ورثہ جو حوالے کیا ہے، اس کی حفاظت و فروغ کیلئے یہ پروگرامس منعقد کئے جارہے ہیں۔