ریاستی وزیر سرینواس یادو کی سرپرستی، اراضی کو لیز پر دینے وقف بورڈ پر دباؤ
حیدرآباد۔/22جولائی، ( سیاست نیوز) صنعت نگر میں اہم اوقافی اراضی پر غیر مجاز قابضین کی نظریں ہیں۔ بعض عناصر اراضی کو لیز پر دینے کیلئے وقف بورڈ پر دباؤ بنارہے ہیں۔ ریاستی وزیر انیمل ہسبینڈری سرینواس یادو مذکورہ اراضی کو لیز پر دیئے جانے کے حق میں ہیں۔ مکہ مدینہ علاء الدین وقف کے تحت صنعت نگر کے CZech کالونی میں 4 علحدہ سروے نمبرات کے تحت 4ایکر اراضی موجود ہے اور 3 مقامات پر ناجائز قبضے ہیں۔ کروڑہا روپئے مالیتی اس قیمتی اراضی میں 2000 گز اراضی اوپن پلاٹ کی طرح ہے۔ مقامی افراد اس اراضی کو چہل قدمی کے طور پر استعمال کرنے کیلئے وقف بورڈ سے لیز کا مطالبہ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گزشتہ سال یہ اراضی سیاسی دباؤ کے تحت وقف بورڈ نے چہل قدمی کیلئے ایک سالہ لیز پر معمولی رقم کے عوض الاٹ کی تھی اور یہ لیز جاریہ سال جون میں ختم ہوچکی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ریاستی وزیر اور ان کے حامی وقف بورڈ پر دباؤ بنارہے ہیں کہ دوبارہ اس اراضی کو لیز پر دیا جائے۔ گزشتہ دنوں سرینواس یادو نے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کے ہمراہ اس علاقہ کا دورہ کیا تھا۔ دورہ میں پتہ چلا کہ مکہ مدینہ علاء الدین وقف کی یہ قیمتی اراضی ناجائز قابضین کے تحت ہے۔ ایک مقام پر غیر قانونی بلڈنگ تعمیر کردی گئی جسے وقف بورڈ نے نوٹس بھی جاری کی ہے۔ دوسرے مقام پر قدیم مکانات ہیں جو سابق میں وقف بورڈ کے کرایہ دار تھے لیکن اب ملکیت کا دعویٰ کررہے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ 2000 مربع گز کھلی اراضی پر ایک شخص نے اپنی ملکیت کا دعویٰ پیش کردیا ہے۔ اسی دوران مقامی مسلمان کھلی اراضی کو لیز پر دینے کی شدت سے مخالفت کررہے ہیں۔ مقامی افراد کے ایک وفد نے صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم سے ملاقات کرتے ہوئے غیر مسلم افراد کو لیز پر دیئے جانے کی کوششوں کی مذمت کی۔ صدر نشین وقف بورڈ نے تیقن دیا کہ اوقافی اراضی کے تحفظ کے حق میں فیصلہ کیا جائے گا اور لیز کے سلسلہ میں کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔ انہوں نے ریاستی وزیر سرینواس یادو پر بھی واضح کردیا کہ لیز پر دینے سے متعلق کوئی بھی فیصلہ لیگل اوپنین حاصل کرنے کے بعد کیا جائے گا۔ اسی دوران کانگریس کے سابق وزیر ایم ششی دھر ریڈی نے الزام عائد کیا کہ سرینواس یادو صنعت نگر کی اوقافی اراضی پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ صدرنشین وقف بورڈ کے ہمراہ اراضی کا معائنہ کرتے ہوئے سرینواس یادو نے قابضین کو یہ تاثر دینے کی کوشش کی ہے کہ اراضی پر بلا خوف و خطر قبضہ کیا جاسکتا ہے۔ ششی دھر ریڈی نے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کو مکتوب روانہ کرتے ہوئے سرینواس یادو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ کھلی اراضی کو لیز پر حاصل کرتے ہوئے مستقل طور پر قبضہ کرنے کی تیاری ہے۔