مودی حکومت کی دریادلی، قریبی صنعت کاروں کا 2.5 لاکھ کروڑ روپئے قرض معاف
سرفہرست کارپوریٹ اداروں کی جانب سے اثاثے فروخت کرنے کا آغاز
حیدرآباد 24 جولائی (سیاست نیوز) ہندوستان میں کام کررہی عوامی اور نجی شعبوں کی بینکوں کا بُرا حال ہے۔ ان بینکوں کو عام ڈاکوؤں، لٹیروں، رہزنوں یا سارقین نے نہیں لوٹا بلکہ ان ارب پتی صنعت کاروں نے لوٹا ہے جو بقول صدر کانگریس راہول گاندھی وزیراعظم نریندر مودی کے قریبی دوست صنعت کار ہیں۔ ہندوستانی عوام کی بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارے ملک میں بھوک سے تڑپتا کوئی شخص ایک روٹی چُراتا ہے تو اسے پیٹ پیٹ کر ہلاک کردیا جاتا ہے جبکہ ان ارب پتی لٹیروں کو بہ آسانی ملک سے نکل جانے دیا جاتا ہے جو بینکوں کو ہزاروں لاکھوں کروڑ روپیوں کا چونا لگاتے ہیں۔ کوئی شخص بینک سے ہزاروں کروڑ روپیوں کا قرض لیتا ہے اور اگر حکومت ان قرضوں کو معاف کردیتی ہے تو آج کل کے لحاظ سے یہ یقینا ایک چوری اور رہزنی ہی ہے۔ چنانچہ پارلیمنٹ میں مودی حکومت کے خلاف پیش کردہ تحریک عدم اعتماد پر مباحث میں صدر کانگریس راہول گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی کو جھنجوڑتے ہوئے سارے ملک کو یاد دلایا کہ مودی جی 15-20 صنعت کاروں کے قریبی دوست ہیں ان سے ملاقات کا ہمارے وزیراعظم کے پاس وقت ہوتا ہے لیکن کسانوں اور چھوٹے تاجرین سے ملاقات کے لئے مودی کے پاس کوئی وقت نہیں رہتا۔ مودی جی نے قرض معاف کرنے سے متعلق کسانوں کی التجاؤں پر توجہ نہیں دی لیکن چند بڑے بڑے صنعت کاروں کا 2.5 (ڈھائی لاکھ کروڑ روپئے) کا قرض معاف کردیا۔ قارئین … آج ہندوستانی معیشت اور معاشی اداروں کو سب سے بڑا خطرہ بینکوں کے ان Bad Loans (ایسے قرض جسے وصول کرنا تقریبا ناممکن ہوچکا ہے) سے لاحق ہے جسے بڑے بڑے صنعت کار اور ایوان اقتدار سے قریب رہنے والی بااثر شخصیتوں نے حاصل تو کیا لیکن اُسے واپس نہ کرسکے کیوں کہ یہ بیچارے کاروبار میں نقصان سے دوچار ہوگئے۔ پرتعیش زندگی گزارتے ہوئے عیاشی میں سارا پیسہ اُڑادیا۔ آپ کو بتادیں کہ یکم مارچ 2018 ء تک اس قسم کے قرض 10.25 لاکھ کروڑ روپئے تک پہنچ گئے تازہ رپورٹس کے مطابق ہندوستان میں بینکوں کو جو قرض وصول شدنی ہے اس کا 12.5 فیصد قرض BAD LOANS پر مشتمل ہے۔ ملک کی بے شمار کمپنیاں یا کارپوریٹ ادارے قرض کے جال میں پھنسنے کے باعث اب اپنے اثاثہ جات فروخت کرنا شروع کرچکے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ طیرانگاہوں، سڑکوں، بندرگاہوں، اسٹیل پلانٹس، سمنٹ یونٹس، ریفائنریز اور کارپوریٹ پارکس وغیرہ پر برائے فروخت کے بورڈ آویزاں دکھائی دیتے ہیں۔ آر بی آئی نے جاریہ سال کے ختم تک کسی بھی حال میں کم از کم 5 لاکھ کروڑ روپئے کے خراب قرضے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ملک کے صرف 10 تجارتی گھرانے بینکوں کو 5 لاکھ کروڑ روپئے قرض باقی ہیں۔ یہ تجارتی گھرانے دو لاکھ کروڑ سے زائد مالیتی اثاثے فروخت کرنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ ان تجارتی گھرانوں یا کارپوریٹ اداروں میں انیل امبانی کا ریلائنس گروپ سرفہرست ہے۔ یہ گروپ بینکوں کو جملہ 1,21,000 کروڑ روپئے کا قرض واجب الادا ہے۔ ریلائنس انفراسٹرکچر اور ریلائنس ڈیفنس بھی اس گروپ پر عائد قرض اور اس پر ہزاروں کروڑ روپئے کے سود کی ادائیگی سے قاصر ہے۔ انیل امبانی کے گروپ نے 2200 کروڑ روپئے مالیتی 44000 ٹیلی کمیونکیشن ٹاورس، 8000 کروڑ روپئے مالیتی آپٹک فائبر اور اس سے متعلق انفراسٹرکچر فروخت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ریلائنس کمیونکیشن اپنے وائرلیس اثاثے کمپنی کے مالک انیل امبانی کے بڑے بھائی مکیش امبانی کو 18000 کروڑ یا تین ارب ڈالرس میں فروخت کررہا ہے جبکہ صرف ریلائنس کمیونکیشن 40 ہزار کروڑ روپئے کا قرض بینکوں کو باقی ہے۔