نئی دہلی 13 مئی (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے لوک سبھا انتخابات میں معلق فیصلہ کی صورت میں کئے جانے والے اقدامات کے بارے میں قانونی و دستوری ماہرین کے ساتھ مشاورت و تبادلہ خیال کیا ہے۔ فالی نریمن، سولی سوراب جی اور سالیسٹر جنرل موہن پرسارن ان ماہرین میں شامل ہیں جن سے صدرجمہوریہ نے گزشتہ ہفتے رائے طلبکی تھی۔ انتخابی نتائج کے اعلان سے چند دن قبل کی جانے والی ان ملاقاتوں اور مشاورتوں کو تشکیل حکومت کے عمل سے منسوب کیا جارہا ہے جس میں صدرجمہوریہ کلیدی رول ادا کریں گے۔ بالخصوص اُس صورت میں جب کسی واحد جماعت یا ماقبل انتخاب والے اتحاد کو واضح اکثریت حاصل نہیں ہوتی ہے۔ لیکن اگر کسی پارٹی یا اتحاد کو واضح اکثریت مل جانے کی صورت میں صدر کا رول محض رسمی طور پر اس جماعت / اتحاد کو تشکیل حکومت کیلئے رسمی طور پر مدعو کرنے تک محدود ہوجاتا ہے۔
لوک سبھا کے تمام 543 حلقوں میں جمعہ کو ووٹوں کی گنتی ہوگی جس کے بعد الیکشن کمیشن رسمی طور پر صدرجمہوریہ کو انتخابی نتائج پیش کرتا ہے۔ 16 ویں لوک سبھا کے انتخاب کیلئے پانچ ہفتے طویل انتخابی مرحلہ گزشتہ روز اختتام کو پہنچا ہے۔ اس دوران راشٹرپتی بھون میڈیا کے امکانی ہجوم کیلئے انتظامات کررہا ہے جہاں جمعہ کو نتائج کے اعلان کے بعد میڈیا کے نمائندے جمع ہوتے ہیں۔ عظیم الشان بارہ دری میں خیمے نصب کئے جارہے ہیں جہاں کثیر تعداد میں پہونچنے والے میڈیا نمائندوں کے بیٹھنے کا انتظام رہے گا۔ اخباری نمائندوں اور پریس فوٹو گرافرس کے علاوہ سیاسی قائدین کے اضافی ہجوم سے نمٹنے کیلئے بھی راشٹرپتی بھون میں خصوصی انتظامات کئے جارہے ہیں۔ علاوہ ازیں سبکدوش شدنی حکومت کے اعزاز میں صدر ہند کی جانب سے ہفتہ کو وداعی ڈنر کے لئے بھی تیاریاں جاری ہیں۔