صدر ضلع اقلیتی سیل تلگودیشم پارٹی نوید اقبال مستعفی

چندرابابو نائیڈو پر سیکولر اقدار پر مبنی سیاست سے منحرف ہونے کا الزام

نظام آباد :10؍ اپریل ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز )صدر ضلع اقلیتی سیل تلگودیشم نویدا قبال نے آج اپنے حامیوں کے ہمراہ تلگودیشم پارٹی سے مستعفی ہوتے ہوئے پولیٹ بیورو کے رکن جناب زاہد علی خان کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک کے سیاسی منظر نامہ میں حالیہ تبدیلیوں نے سیاسی پارٹیوں اور قومی قائدین کے نظریات و افکار پر بھی گہرا اثر ڈالا ہے، کئی سیاسی پارٹیوں کی قیادت نے بدلتے حالات کے پیش نظر اپنے تاسیسی نظریات و پالیسیوں سے انحراف کرنا شروع کردیا ہے اصولی سیاست کی حامل سیاسی پارٹیاں بھی اب انتخابی کامیابی کے امکانات اور شکست کے خدشات کی اساس پر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی لانے لگی ہیں ۔ آنجہانی این ٹی راما رائو نے ایک ہی سیاسی پارٹی کی غلامی سے نجات دلانے تلگودیشم عوام کی عزت نفس کی عظمت ، تنگی اور سیکولر اقدار کو پامالی سے روکنے تلگودیشم پارٹی قائم کرتے ہوئے ایک ایسی نظیر قائم کی تھی کہ قومی سیاست میں علاقائی جماعتوں کی افادیت بڑھ جائے ۔ تلگودیشم پارٹی کے موجودہ سربراہ مسٹر این چندرا بابو نائیڈو نے بھی پارٹی کی قیادت سنبھالنے کے بعد ایک طویل عرصہ تک اقدار پر مبنی سیاست کی بالادستی کیلئے سرگرم عمل رہے تاہم انتخابی شکست اور ملک کے سیاسی منظر نامہ میں تبدیلیوں کے پیش نظر وہ انتخابی کامیابی کو ہی فوقیت دینے لگے ہیں، تقسیم ریاست کے مسئلہ پر بھی مسٹر نائیڈو نے یکطرفہ مفادات کو ہی ملحوظ رکھا اور علیحدہ تلنگانہ کی تشکیل کا جب مرحلہ قریب آیا تو وہ اپنی پالیسی سے منحرف ہونے لگے اور یکلخت تلنگانہ سے بے گانگی کا مظاہرہ کرنے لگے اور عا م انتخابات اور ریاستی اسمبلیوں کے انتخابات میں اپنے وجود کو یقینی بنانے پارٹی کے بنیادی اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے بی جے پی سے انتخابی مفاہمت کی راہیں تلاش کرنے لگے ۔ نریندر مودی جو فرقہ پرستی ، اکثریت اور فریبی سیاست کی ایک علامت ہے ان کے زیر قیادت بی جے پی سے انتخابی مفاہمت کرتے ہوئے فرقہ پرست سیاست کے استحکام کیلئے کوشاں ہوگئے۔ تلگودیشم پارٹی سے زائد از 25 برس کی رفاقت کے باجود اب پارٹی سے وابستگی میرے لئے محال ہوگئی ہے چونکہ فرقہ پرست سیاست کے نتیجہ میں ملک کی سا لمیت اور ہندوستانی قوم کے سیکولر تانے بانے کو جو شدید نقصان پہنچنے والا ہے اس کے ہم متحمل نہیں ہوسکتے۔ موجودہ حالات میں سیکولرازم کی بقاء کی جدوجہد کرنے کی ضرورت بڑھ جاتی ہے ملک کی سیکولر طاقتیں اور سنجیدہ ذہن و فکر رکھنے والے کسی بھی صورت میں نہ ہی نریندر مودی کی زیر قیادت بی جے پی اور نہ ہی اس کی بالواسطہ معاون پارٹیوں سے وابستگی اختیار کرسکتے ہیں فی الوقت میں اور میرے رفقاء کسی بھی پارٹی میں شمولیت اختیار کرنے میں تامل کررہے ہیں تاہم اندرون ایک یا دو یوم اس ضمن میں فیصلہ لیا جائے گا تاکہ علاقائی وقومی سطح پر ہونے والی تازہ تبدیلیوں اور حالات کو پیش نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کیا جائے۔ یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ سیکولر طاقتوں کا انتشار فرقہ پرست طاقتوں کو فائدہ پہنچاتا ہے اس لئے فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف جن سیکولر طاقتوں میں مقابلہ کی صلاحیت بدرجہ اتم موجود ہو ان کو استحکام بخشا جائے ۔ اس موقع پر پارٹی سے مستعفی ہونے والوں میں شفیق خان نائب صدر ضلع تلگو یواتا ،ایم اے قدیر صدر سٹی تلگودیشم اقلیتی سیل ، عزیز راہی ، انجینئر سلطان احمد بامہدی ، شیخ احمد اکبر ، خواجہ سلیم الدین ، ایم اے منان ، محمد سلیم ، سرفراز ، محمد اعجاز ، قمر الدین اور شیخ وہاب ، شہبا ب الدین ضلع جنرل سکریٹری میناریٹی سیل، امجد خان صدر ڈویژن 13 ، فضل خان امیدوار ڈویژن 13 کے علاوہ قائدین تلگودیشم مرزا طاہر بیگ ، محمد اکرم علی ، محمد رفیع ، ایم اے بصیر ، اعجاز ، نعیم ، ایم اے رحیم ، سید شمشاد ، امیر الدین ، محمد غوث پاشاہ ، میر منور علی ، زبیر،شیخ احمد ،محمد مدثر، زوہیب، اعجاز، منور موجود تھے۔