اوسلو۔ 14 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ ہند پرنب مکرجی نے آج ہیمادری اسٹیشن پر تعینات ہندوستانی سائنس دانوں سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعہ تبادلہ خیال کیا۔ صدرجمہوریہ نے ہندوستانی سائنس دانوں سے کہا کہ قطب شمالی اور بحر منجمد شمالی میں ہونے والی تبدیلیاں ہندوستان کی ماحولیات کو بھی متاثر کرتی ہیں، کیونکہ برفانی دریاؤں کی برف پگھلنے سے سطح سمندر میں اضافہ ہوتا ہے اور اس کے نتیجہ میں ماحولیات بھی متاثر ہوتی ہیں۔ سائنس دانوں نے کہا کہ بحر منجمد شمالی، قحط کی تبدیلیوں کا گہوارہ بھی ہے۔ صدرجمہوریہ نے اس کی وجہ دریافت کی اور اس کے انسداد اقدامات کے بارے میں بھی دریافت کیا۔ سائنس دانوں نے کہا کہ برفانی دریاؤں کی نگرانی اور ان کے بارے میں خصوصی تحقیق کے لئے وزارت دفاع کی جانب سے بحرمنجمد شمالی میں تعینات کئے گئے ہیں۔ تحقیق اور تجزیہ تقریباً مکمل ہوچکا ہے۔ صدرجمہوریہ نے ان کی ستائش کی کہ وہ ایسے ناسازگار ماحول میں جس سے وہ مانوس نہیں ہیں، اتنی اہم تحقیق کررہے ہیں۔ صدرجمہوریہ نے بعدازاں ناروے کی کمپنیوں سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں سے اپیل کی کہ وہ ہندوستان کے انفراسٹرکچر شعبہ میں سرمایہ کاری کے مواقع تلاش کریں۔ انہوں نے کہا کہ غیرملکی راست سرمایہ کاروں کا ریلوے ، شوارع اور برقی توانائی، بندرگاہوں کے علاوہ مواصلات کے شعبوں میں خیرمقدم کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ناروے کی کمپنیوں کو ہندوستانی کمپنیوں کے ساتھ نئی حکومت کی پہل ’’میک اِن انڈیا‘‘ میں شامل ہوجانا چاہئے۔ فی الحال غیرملکی صنعت کاروں کے ہندوستان کے فروغ میں شراکت داری میں سہولت پیدا کرنے کے لئے دفتری طریقہ کار میں آسانی پیدا کی جارہی ہیں۔ وہ ناروے کے شاہ ہیرالڈ پنجم اور ملکہ سونجا کے شاہی عشائیہ میں جو قصر شاہی میں ترتیب دیا گیا تھا، خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان اور ناروے کے درمیان تجارت میں نمایاں توسیع ہورہی ہے لیکن ابھی کیسے مواقع بھی موجود ہیں جن سے استفادہ نہیں کیا گیا ہے۔ اسکینڈینیویا کے اس ملک کا دورہ کرنے والے صدرجمہوریہ اولین سربراہ مملکت ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کرپشن ہندوستان کے لئے بے شک باعث فکرمندی ہے لیکن بعض سرکاری انتظامات پر عمل آوری شروع کردی گئی ہے جس کے ذریعہ اس مسئلہ پر قابو پایا اور اس کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے۔