واشنگٹن۔8جون ( سیاست ڈاٹ کام) ایرانی صدر حسن روحانی پیر کے روز سے ترکی کا دورہ کریں گے۔ حسن روحانی کا صدر منتخب ہونے کے بعد ترکی کا یہ پہلا دورہ ہے جس میں اس امید کا اظہار کیا جارہا ہے کہ ایران کے جوہری توانائی کے پروگرام کے ساتھ ساتھ شام ‘ تجارتی اور توانائی کے شعبوں میں بڑھتے ہوئے تعلقات ایجنڈا پر سرفہرست ہوں گے ۔ ایک میڈیا رپورٹ کے مطابق دورہ کے دوران خصوصی طور پر کشیدہ تعلقات میں بہتری لانے پر توجہ مبذول رہے گی ۔ ایرانی صدر حسن روحانی ایسے وقت ترکی کا دورہ کررہے ہیں جب یہ تو قعات جنم لے رہی ہیں کہ ان کے اس دورہ سے آپسی تناؤ کم کرنے اور مصالحت کی راہ ہموار ہو گی ۔شام کے تنازعہ پر ترکی اور ایران کا موقف متضاد ہے جب کہ حسن روحانی کے پیشرو محمود احمدی نژاد ترکی کے وزیر اعظم رجب طیب اردغان کے خلاف تیز الفاظ کااستعمال کیا کرتے تھے ۔ تجزیہ کاروں کے مطابق ترکی کی طرف سے بنیاد پرست اسلامی گروپ ’’ النصرہ‘‘ کو دہشت گرد تنظیم قرار دیئے جانے کے بعد ایران کے ساتھ تعلقات میں بہتری لانے میں مدد ملے گی۔