ای سیوا اور می سیوا میں دستاویزات کی عدم وصولی ‘جی ایچ ایم سی کی اسکیم غیر کارکرد
حیدرآباد 25 اگست (سیاست نیوز) مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے حدود میں صداقتنامہ پیدائش کی اجرائی مسائل کاشکار بنی ہوئی ہے ۔ ای سیوا اور می سیوا مراکز پر صداقتنامہ پیدائش کے دستاویزات کی عدم وصولی کی بناء پر صداقتنامہ کی اجرائی دشوار کن ہوتی جارہی ہے ۔ گذشتہ 8 ماہ کے دوران لاکھوں افراد صداقتنامہ پیدائش کے حصول کے لئے دفاتر کے چکر کاٹ رہے ہیںلیکن اس کے باوجود بھی ان کے اس مسئلہ کاحل دریافت نہیں ہوپارہا ہے جس کی بنیادی وجہ دستاویزات کی عدم وصولی کے علاوہ ریاست کی تقسیم کے عمل کے دوران روکے گئے کام کاج ہیں۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد نے نومولود کے صداقتنامہ پیدائش ان کے پتہ پر روانہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس اسکیم کا عملاً آغاز بھی کردیا تھالیکن فی الحال یہ اسکیم غیر کارکرد نظر آرہی ہے جس کی وجہ سے می سیوا اور ای سیوا مراکز پر صداقتنامہ پیدائش کے حصول کیلئے عوام رجوع ہورہے ہیں۔ ڈاکٹر وجئے کمار عہدیدار جی ایچ ایم سی کے بموجب صداقتنامہ پیدائش رہائش کے پتہ پر روانہ کرنے کی اسکیم کے آغاز سے اب تک 1 لاکھ 18 ہزار صداقتنامہ پیدائش جاری کئے جاچکے ہیں لیکن گذشتہ چند ماہ سے بعض ناگزیروجوہات کی بناء پر اس اسکیم پر مناسب عمل آوری نہیں ہوپارہی ہے ۔ سال گذشتہ جی ایچ ایم سی کی جانب سے اس اسکیم کا آغاز کیا گیا تھا لیکن اس پر موثر عمل آوری نہ ہونے کے سبب عوام کو صداقتنامہ پیدائش کیلئے چکر کاٹنے پڑ رہے ہیں ۔ اعداد و شمار کے مطابق شہر میں موجود 104 دواخانوں میں ہر ماہ تقریباً 18 ہزار بچوں کی پیدائش ہوتی ہے۔ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآبادکو اسکیم کے آغاز سے اب تک 2 لاکھ 52 ہزار صداقتنامہ پیدائش جاری کرنے چاہئے تھے لیکن عہدیدار اس بات کا اعتراف کررہے ہیں کہ تاحال صرف 1 لاکھ 18 ہزار صداقتنامہ پیدائش جاری کئے گئے ہیں ۔ عہدیداروں کا استدلال ہے کہ صداقتنامہ پیدائش کی اجرائی کے معاملہ میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد سنجیدہ ہے لیکن 2 جون کو ریاست کی عملاً تقسیم کے بعد پیدا شدہ صورتحال کے باعث صداقتنامہ پیدائش کی اجرائی دشوار کن مرحلوں کا شکارہوئی ہے ۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے صداقتنامہ پیدائش کی عدم اجرائی کے سبب مستقبل میں مزید مسائل پیدا ہوسکتے ہیں چونکہ صداقتنامہ پیدائش کا لزوم عائد ہوچکا ہے اور پاسپورٹ کے علاوہ دیگر ضروری دستاویزات کی تیاری میں صداقت نامہ پیدائش کی نقل منسلک کرنا لازمی قرار دیا جارہا ہے ایسی صورت میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کو چاہئے کہ فوری طور پر متحرک ہوتے ہوئے گذشتہ ایک برس کے دوران تولد ہونے والے بچوں کے صداقتنامہ پیدائش کی اجرائی کو یقینی بنائے اور مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کے منصوبہ کے مطابق نومولود کے والدین کو اُن کے مکان تک صداقتنامہ پیدائش پہنچانے کاعمل مکمل کرے۔