شیخ پیٹ روڈ ڈیوائیڈر پر غیر قانونی ڈھانچہ کو بتدریج مندر کی شکل دینے کی کوشش

حیدرآباد ۔ 13 ۔ اگست : ( نمائندہ خصوصی ) : شہر کے مختلف فٹ پاتھس ، چوراہوں ، گندے نالوں کے علاوہ سرکاری دفاتر ، سرکاری ہاسپٹلس اور دیگر عوامی مقامات غرض ہر جگہ شرپسند عناصر مذہبی ڈھانچے کھڑے کررہے ہیں ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ بلدی عہدیداروں اور پولیس کے سامنے ہورہا ہے جب کہ سپریم کورٹ نے واضح طور پر ایسے اقدامات کے خلاف ناراضگی ظاہر کی ہے جیسا کہ جسٹس آر ایم لودھا اور جسٹس ایس جے سکھ اپادھیائے نے اپنے ایک حکم نامہ میں کہا ہے کہ پبلک روڈ کسی کی جائیداد نہیں ہے ہر شہری کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ آسانی کے ساتھ سڑکوں پر حرکت کرسکیں ۔ اور اس حق کو سڑکوں پر اسٹیچو ، مندر ، مسجد ، چرچ وغیرہ تعمیر کرتے ہوئے چھینا نہیں جاسکتا ۔ اس واضح حکم نامہ کے باوجود ہمارے شہر میں آئے دن چوراہوں ، راستوں اور فٹ پاتھ پر مذہبی ڈھانچے کھڑے کئے جارہے ہیں مگر اس کے خلاف نہ بلدی عہدیدار کارروائی کرتے ہیں اور نہ ہی پولیس کوئی ایکشن لیتی ہے ۔ یہاں پر آج ہم آپ کو بطور مثال شیخ پیٹ روڈ ڈیوائیڈر پر تعمیر کیے جارہے مذہبی ڈھانچہ کے بارے میں بتاتے ہیں جس کے بارے میں ہم نے اب سے دو سال قبل بھی رپورٹ شائع کرتے ہوئے حقیقت حال سے واقف کرایا تھا کہ کس طرح دھیرے دھیرے جھنڈا لگایا ، پھر چبوترا تعمیر کیا اور اب اسے ایک مندر کی شکل دینے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ دراصل مقامی افراد کی شکایت اور ان کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے ہم پچھلے دو سال سے مذکورہ مقام کا جائزہ لے رہے ہیں ۔

جہاں اکتوبر 2012 سے پہلے یہاں ڈھانچے کا کوئی وجود نہیں تھا ، تاہم اکتوبر 2012 میں روڈ کے بیچوں بیچ سبزہ زار پر ایک چھوٹا سا چبوترہ بنایا گیا اور زعفرانی جھنڈے نصب کردئیے گئے ۔ پھر دو ہفتہ بعد اسے مزید پختہ کرتے ہوئے زعفرانی رنگ سے رنگ دیا گیا اور اس پر ایک بڑا زعفرانی جھنڈا لہرا دیا گیا اور ایک مہینہ بعد اس کی ہئیت میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے مزید وسیع کردیا گیا ۔ اور اب وہاں پر اسی چبوترے کو مزید وسیع کرتے ہوئے وہاں پر شیواجی کی تصویر رکھ دی گئی ہے ۔ جس سے مقامی سیکولر پسند افراد میں تشویش پائی جاتی ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ مستقبل میں اگر اس چبوترہ کو مندر میں تبدیل کردیا جاتا ہے ( جس کا کہ قوی امکان ہے ) تو یہاں پر ٹریفک جام کا ایک بہت بڑا اور لامتناہی سلسلہ شروع ہوجائے گا ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ اسی مقام پر پولیس کا سب کنٹرول روم بھی موجود ہے ۔ مگر پولیس کی ناک کے نیچے انجام دی جانے والی اس غیر قانونی سرگرمیوں کا کوئی ایکشن نہیں لیا جارہا ہے ۔ مقامی افراد کا احساس ہے کہ اگر فوری طور پر اس چبوترے کو نہیں ہٹایا گیا تو چارمینار کے پاس جس طرح ٹریفک کا مسئلہ پیدا ہورہا ہے وہ یہاں بھی شروع ہوجائے گا ۔ لہذا مقامی افراد کا مطالبہ ہے کہ اس غیر قانونی ڈھانچے کی تعمیر کے خلاف حکومت ، پولیس کمشنر ، اور بلدی عہدیدار فوری طور پر کارروائی کریں ورنہ مستقبل میں اس کے تمام منفی اثرات کے وہ ذمہ دار ہوں گے ۔۔