مسلم تنظیموں اور افراد کی حکومت سے نمائندگی
حیدرآباد۔/19جون، ( سیاست نیوز) وقف بورڈ کے اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے جناب شیخ محمد اقبال کی میعاد میں توسیع کا مطالبہ کرتے ہوئے ضلع محبوب نگر اور دیگر اضلاع سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں مسلمانوں نے آج سکریٹریٹ پہنچ کر حکومت سے نمائندگی کی۔ مختلف مسلم تنظیموں سے وابستہ افراد نے سکریٹریٹ میں چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ اور ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی سے اس سلسلہ میں نمائندگی کرتے ہوئے وقف بورڈ کی بہتر کارکردگی کو یقینی بنانے شیخ محمد اقبال کی میعاد میں توسیع کا مطالبہ کیا۔ مسلمانوں کا کہنا تھا کہ ایسے وقت جبکہ وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے شیخ محمد اقبال نے کئی اقدامات کئے ان کی میعاد میں عدم توسیع اوقافی جائیدادوں کے تحفظ میں رکاوٹ کا سبب بن سکتی ہے۔ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر کو پیش کردہ یادداشتوں میں مسلمانوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ اسپیشل آفیسر کی حیثیت سے میعاد میں فوری توسیع دیتے ہوئے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران اسپیشل آفیسر نے کئی اہم اوقافی جائیدادوں کا نہ صرف تحفظ کیا بلکہ کئی بے قاعدگیوں کی نشاندہی کرتے ہوئے کارروائی کی۔ انہوں نے کہا کہ بعض عناصر جو اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے حق میں نہیں ہیں وہ شیخ محمد اقبال کی برقراری کے خلاف ہیں اور اس سلسلہ میں بعض سیاسی جماعتوں کی مدد سے حکومت پر دباؤ بنانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ چیف منسٹر اور ڈپٹی چیف منسٹر نے مسلمانوں کے وفد کو تیقن دیا کہ وہ اس مسئلہ کا سنجیدگی سے جائزہ لیں گے اور ضروری قدم اٹھائے جائیں گے۔ حکومت نے واضح کردیا کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے مسئلہ پر کسی سمجھوتہ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، اور ٹی آر ایس نے انتخابی منشور میں وقف بورڈ کے اختیارات میں اضافہ کا وعدہ کیا ہے۔