حکومت کے وعدے 4 اور 10 سال میں بھی وفا نہ ہوسکے ، مسلم اکثریتی علاقوں میں ترقی کیوں نہیں ؟
حیدرآباد ۔ 10 ۔ اپریل : پرانے اور نئے شہر میں مسلم اکثریتی علاقوں میں چھوٹے موٹے جو بھی سرکاری ادارے کام کرتے ہیں ان کی حالت انتہائی ابتر ہوتی ہے ۔ جس کی مثال مستعد پورہ میں واقع یونانی دواخانہ کی ہے ۔ اس ہاسپٹل کی عمارت شاندار ہے دواخانہ مسلم اکثریتی علاقہ میں ہے ۔ جولائی 2010 میں اس وقت کے وزیر صحت ڈی ناگیندر نے اس دواخانہ کو 30 بستروں کے ہاسپٹل میں تبدیل کرنے کا اعلان کیا تھا ۔ لیکن تقریبا 4 برس گذر جانے کے باوجود بھی حکومت کا یہ وعدہ وفا نہ ہوسکا ۔ اس تاریخی یونانی دواخانہ کا دورہ کیا اور ڈاکٹروں سے بات چیت پر پتہ چلا کہ یومیہ آنے والے 100 مریضوں سے صرف 40 مریضوں کو ہی ادویات ملتی ہیں ۔ سینئیر میڈیکل آفیسر مخدوم علی نے بتایا کہ حکومت نے شاندار عمارت تعمیر کی ہے لیکن مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ شاندار عمارت سے کیا فائدہ ۔ اگر اس میں ادویات ہی نہ ہوں تو عمارت کس کام کی ۔ واضح رہے کہ 64 برس قبل مستعید یار جنگ کے پوتے حکیم منیر الدین نے اپنی قیام گاہ کو جو 1070 مربع گز اراضی پر محیط تھی انسانوں کی بہبود کے لیے اللہ کی راہ میں وقف کردیا تھا ۔ اور آج اسی قیام گاہ پر یونانی دواخانہ کام کررہا ہے ۔ ہاسپٹل فارمیسی کو 3 ماہ میں ایک مرتبہ ادویات فراہم کی جاتی ہیں جب کہ ہر ماہ اسٹاک فراہم کرنا ضروری ہے ۔ اس یونانی ہاسپٹل میں ڈاکٹر شمیم سلطانہ جونیر میڈیکل آفیسر نے بتایا کہ کھانسی ، بخار ، بواسیر ، نواسیر ، بانجھ پن کے علاوہ امراض نسواں کا یہاں بہتر انداز میں علاج کیا جاتا ہے ۔ لیکن افسوس کہ ایک بستر بھی نہیں ہے ۔ جس کی دوسری مثال کاماٹی پورہ میں واقع گورنمنٹ سیول ڈسپنسری کا بھی یہی حال ہے 9 مئی 2003 کو اس ہاسپٹل کا سابق چیف منسٹر مسٹر این چندرا بابو نائیڈو کے ہاتھوں افتتاح عمل میں آیا ۔ افتتاح کی تختی پر واضح طور پر لکھا ہے کہ یہ ہاسپٹل 30 بستروں پر مشتمل ہے لیکن تیس تو دور کی بات ہے وہاں تین بستر بھی نہیں ہیں جو مقامی آبادی کے ساتھ ایک مذاق ہے ۔ مقامی عوام کے خیال میں ایسے ایک چھوٹے زچگی خانہ میں تک تبدیل کیا جاسکتا ہے لیکن حکومت کو اور نہ ہی عوامی نمائندوں کو اس کی کوئی فکر ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ یہ ہاسپٹل بھی کثیر مسلم آبادی میں واقع ہے ۔ بہر حال دیکھنا یہ ہے کہ یہ دونوں دواخانے کب 30 بستروں کے ہاسپٹل میں تبدیل ہوں گے ۔۔