حیدرآباد ۔ /12 نومبر (سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے تالابوں کے تحفظ کیلئے متعدد اقدامات کے اعلانات کئے گئے اور یہ کہا گیا کہ ترجیحی بنیادوں پر تالابوں کی بازیافت اور ان کے ترقیاتی کاموں کو عمل میں لایا جائے گا تاکہ شہر میں موجود ذخائر آب کی صورتحال کو بہتر بنایا جاسکے ۔ حکومت کے ان اعلانات پر کس طرح عمل آوری یقینی بنائی جائے گی ۔ یہ بات سمجھ سے باہر ہے چونکہ حکومت کی ہی کئی تعمیرات تالابوں کے پشتے اور شکم میں کی گئی ہے جنہیں سب سے پہلے ہٹایا جانا چاہئیے تاکہ تالابوں کی حالات کو بہتر بناتے ہوئے انہیں ترقی دی جاسکے ۔ تالابوں کی نگہداشت اور تحفظ کیلئے خدمات انجام دینے والی غیرسرکاری تنظیم SOUL کا کہنا ہے کہ جب تک تالابوں کی نشاندہی اور ان کے متعلق تفصیلات یکجا کرتے ہوئے صحیح میکانزم کے ساتھ تالابوں کے ترقیاتی کام انجام نہیں دیئے جاتے اس وقت تک حکومت کے اعلانات پر عمل آوری ممکن نہیں ہے ۔ مس لبنیٰ ثروت نے بتایا کہ حکومت سے تالابوں کے تحفظ اور بازیابی کے اعلانات کئے جارہے ہیں کہ شہری حدود میں موجود تالابوں کو ترجیحی بنیادوں پر ترقی دی جائے گی لیکن تاحال کوئی پالیسی جاری نہیں کی گئی ۔ حیدرآباد میٹروپولیٹین ڈیولپمنٹ اتھاریٹی کے حدود میں 2857 تالاب موجود ہیں
جن کی نشاندہی تقریباً مکمل ہوچکی ہے اور 2013 ء اکٹوبر سے یہ تفصیلات ایچ ایم ڈی اے کے پاس موجود ہے لیکن اس کے باوجود تالاب بم رکن الدولہ اور نہر حسینی جیسی تاریخی باؤلی اس فہرست سے غائب ہوچکی ہیں ۔ انہوں نے بتایا کہ 2012 ء تک ان کی نشاندہی ممکن ہوا کرتی تھی لیکن گزشتہ دو برسوں میں یہ دونوں چیزیں بالکلیہ طور پر غائب ہوچکی ہیں اور حڈا پارک تالاب کے نام سے قریب میں ایک تالاب کی جگہ دکھائی جارہی ہے جبکہ بم رکن الدولہ 102 ایکر پر محیط تالاب ہوا کرتا تھا ۔ لبنیٰ ثروت نے مزید بتایا کہ حالیہ دنوں میں حکومت جب تالابوں کے تحفظ کی بات شروع کرچکی تھی اس کے بعد بھی کتور منڈل میں واقع مامڑی کنٹہ تالاب کی ایک ایکر کا حصہ جو شکم میں آتا ہے وہ پراکٹر اینڈ گیمبل کے حوالے کردیا گیا اور جی او میں یہ وضاحت کی گئی ہے کہ ایک ایکر متبادل اراضی فراہم کردی جائے گی ۔ انہوں نے متبادل اراضی کی فراہمی کی صراحت کو مضحکہ خیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے سرکاری احکامات سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکومت کو تالابوں کے تحفظ سے دلچسپی نہیں ہے ۔ نیا قلعہ کے اندرونی حصے میں بھی نیا قلعہ تالاب کے نام سے 30 ایکر پر مشتمل ایک تالاب ہوا کرتا تھا جو کہ اب سکڑ کر 7 ایکر کا ہوچکا ہے اور وہ تالاب بھی خطرے میں ہے چونکہ گولف کورس اسوسی ایشن کی جانب سے اس تالاب کے شکم کو بھرنے کی کوشش جاری ہے ۔
اسی طرح شاہ حاکم تالاب جو کہ 76 ایکر پر تھا بالکلیہ طور پر ختم اور جمالی کنٹہ کے نام سے موسوم تالاب بھی تقریباً ختم ہوچکا ہے ۔ حکومت کی جانب سے درگم چیرو اور میرعالم تالاب کے ترقیاتی کاموں کیلئے 50 کروڑ روپئے خرچ کرنے کا اعلان کیا گیا جبکہ میرعالم تالاب میں عیدگاہ میرعالم کے عقب میں واقع حصے کو ناجائز قابضین کی جانب سے پر کرنے کی کوششوں کا سلسلہ مبینہ طور پر جاری ہے ۔ چنا چیروو رامنتاپور کے شکم کو لینڈگرابرس کی جانب سے بھرتے ہوئے مبینہ طور پر اسے فروخت کردیا گیا اور اس کے باوجود کوئی کارروائی نہیں ہوئی ۔ فی الحال چنا چیروو کی اراضی پر تین منزلہ عمارت بنی ہوئی ہے ۔ حکومت کو چاہئیے کہ تالابوں کے تحفظ کیلئے اقدامات کے آغاز کے ساتھ ساتھ تالابوں کی نشاندہی اور ان کے حدود کے تعین کو یقینی بناتے ہوئے عہدیداروں کو جوابدہ بنائیں تاکہ تالابوں کے تحفظ اور ترقیاتی کاموں کو یقینی بنایا جاسکے ۔