= سرکاری جائیدادوں کے ساتھ فروخت کرنے کی تجویز
= وقف بورڈ سے حکومت نے تفصیلات حاصل کرلی
= سرکاری خزانہ بھرنے وقف اُمور میں مداخلت
حیدرآباد۔/10فبروری، ( سیاست نیوز ) تلنگانہ حکومت سرکاری اراضیات کی فروخت کے ذریعہ خزانہ کو پُر کرنے کے منصوبہ کے تحت اوقافی جائیدادوں اور اراضیات پر بھی نظر رکھے ہوئے ہے۔ اگرچہ اوقافی جائیدادیں اور اراضیات میں حکومت مداخلت نہیں کرسکتی تاہم تلنگانہ حکومت مالیاتی خسارہ پر قابو پانے کیلئے کسی بھی حد تک جانے تیار دکھائی دے رہی ہے۔ اس سلسلہ میں چیف سکریٹری ڈاکٹر راجیو شرما کی جانب سے حیدرآباد اور رنگاریڈی میں اہم اوقافی جائیدادوں اور اراضیات کے بارے میں تفصیلات طلب کی گئی ہیں۔ باوثوق ذرائع نے بتایا کہ حکومت سرکاری اراضیات کے ساتھ ساتھ اوقافی اراضیات کو بھی فروخت کرنے کا منصوبہ رکھتی ہے کیونکہ اوقافی جائیدادیں اور اراضیات شہر کے مرکزی مقامات پر موجود ہیں جن کی فروخت کے ذریعہ حکومت کئی ہزار کروڑ روپئے حاصل کرسکتی ہے۔ برخلاف اس کے ان اراضیات کے بدلے میں وقف بورڈ کو صرف معمولی معاوضہ ادا کیا جائے گا۔ حکومت نے صرف تفصیلات طلب کی تاہم تحریری طور پر اس بات کی کوئی وضاحت نہیں کی گئی کہ اراضیات کی فروخت میں وقف بورڈ کی حصہ داری کیا ہوگی۔ حکومت کی جانب سے حیدرآباد اور رنگاریڈی میں اہم اوقافی جائیدادوں کی تفصیلات طلب کرنے سے وقف بورڈ کے عہدیداروں میں بے چینی پائی جاتی ہے۔ بورڈ کی جانب سے 18 اہم جائیدادوں اور اراضیات کی نشاندہی کی گئی اور ان کی تفصیلات حکومت کو روانہ کی جارہی ہیں۔ سکریٹری اقلیتی بہبود کے ذریعہ یہ تفصیلات حکومت کو پیش کی جائیں گی۔ ان اراضیات میں امیرپیٹ، بیگم پیٹ، چاپل روڈ، نامپلی، نارائن گوڑہ، خیریت آباد، پنجہ گٹہ، شیخ پیٹ، مہیشورم، مامیڈی پلی، منی کونڈہ اور شیر لنگم پلی جیسے مقامات پر موجود کھلی اراضیات اور بعض جائیدادیں شامل ہیں۔ حج ہاوز نامپلی کے دائیں جانب تعمیر کئے جارہے ہمہ منزلہ کامپلکس اور بائیں جانب موجود کھلی اراضی کو بھی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ اگر حکومت سرکاری اراضیات کے ساتھ ساتھ ان اوقافی جائیدادوں کو فروخت کیلئے ویب سائٹ پر پیش کردے گی تو یہ اوقافی اُمور میں حکومت کی صریح مداخلت ہوگی۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت انڈومنٹ کی اراضیات اور جائیدادوں کو فروخت شدنی جائیدادوں کی فہرست میں شامل نہیں کرے گی چونکہ اوقافی اُمور میں مداخلت آسان ہے لہذا حکومت کی نظریں بھی اوقافی جائیدادوں اور اراضیات پر پڑرہی ہیں۔ اوقافی اُمور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو وقف جائیدادوںکی فروخت کا اختیار نہیں کیونکہ یہ منشائے وقف کے تحت ہوتی ہیں۔ حکومت وقف بورڈ پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کررہی ہے کہ وہ حیدرآباد اور رنگاریڈی میں موجود اہم کھلی اراضیات کو حکومت کے حوالے کردے تاکہ وہاں خانگی اداروں کے قیام کو یقینی بنایا جاسکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سرمایہ کاری میں اضافہ کیلئے یہ اقدام ضروری ہے۔ تاہم اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیدار حکومت کی اس تجویز سے اُلجھن کا شکار ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والے ٹی آر ایس حکومت کا مقصد کیا ہے اور وہ وقف بورڈ کو ان اراضیات کے معاوضہ میں کس حد تک حصہ دار بنائے گی۔ واضح رہے کہ حکومت کو شہر کی اہم اوقافی جائیدادوں کو 30سال کی لیز پر دیتے ہوئے ترقی دینے کے سلسلہ میں بورڈ کی جانب سے تجویز روانہ کی گئی لیکن حکومت نے ابھی تک اس کی منظوری نہیں دی۔ بورڈ نے شہر کے مرکزی مقامات پر واقع 5 جائیدادوں کی نشاندہی کی ہے جن کی ترقی کے ذریعہ بورڈ کروڑہا روپئے آمدنی حاصل کرسکتا ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ وہ اوقافی جائیدادوں کو سرکاری اراضیات کی طرح خانگی اداروں کو فروخت کرنے کے بجائے وقف بورڈ کو اپنے طور پر ترقی دینے کی اجازت دے تاکہ بورڈ خانگی اداروں سے ٹنڈرس طلب کرتے ہوئے 30سالہ لیز پر معاہدہ کرسکے۔