بلاوقفہ برقی سربراہ کرنے تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاور کا ادعا حقیقت سے بعید
حیدرآباد۔22اپریل(سیاست نیوز) شہر میں برقی سربراہی میں خلل کے مسائل میں بتدریج اضافہ ہوتا جا رہاہے اور کوئی اس مسئلہ پر گفتگو کرنے تیار نہیں ہے اور اعلی عہدیدار دعوی کر رہے ہیں کہ شہر میں برقی سربراہی میں خلل کی کوئی شکایات موصول نہیں ہورہی ہیں جبکہ صورتحال یہ ہے کہ 24 میں 6 گھنٹے برقی کٹوتی یقینی بنائی جا رہی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقوں میںروزانہ برقی سربراہی میں خلل کی شکایات کے باوجود تلنگانہ اسٹیٹ سدرن پاؤر ڈسٹریبیوشن کارپوریشن کے عہدیداروں کا ادعا ہے کہ بلاوقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنانے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں جبکہ ان دعوؤں میں کوئی صداقت نہیں ہے کیونکہ اب شکایات صرف پرانے شہر سے نہیں بلکہ سکندرآباد اور شہر کے کئی علاقوں سے موصول ہونے لگی ہیں اور کہا جا رہاہے کہ ان شکایات کی سنوائی کو بھی یقینی نہیں بنایاجا رہاہے جبکہ حکومت کی جانب سے غیر معلنہ برقی سربراہی کی ہدایت دیتے ہوئے یہ اعلانات کئے جا رہے ہیں کہ ریاست میں حکومت فاضل برقی پیداوار کے نشانہ کو تکمیل کرچکی ہے۔ حکومت کا یہ ادعا اگر درست ہے تو پیدا کی جا رہی برقی کہاں جا رہی ہے جبکہ دارالحکومت کے شہریوں کو مناسب سربراہی نہیں مل پا رہی ہے۔ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کے کئی علاقوں نامپلی ‘ ہمایوں نگر‘ آغاپورہ‘ ریڈ ہلز ‘ وجئے نگر کالونی‘ مہدی پٹنم‘ ٹولی چوکی ‘ فرسٹ لانسرز‘ گولکنڈہ‘ لکڑی کا پل‘ چارمینار‘ پنچ محلہ ‘ محبوب چوک ‘ شاہ گنج‘ مغلپورہ‘ قاضی پورہ‘ شاہ علی بنڈہ‘ خلوت‘ شکر گنج‘ فلک نما‘ انجن باؤلی‘ رنمست پورہ ‘ بہادر پورہ اور کئی علاقوں سے روزانہ اس بات کی شکایت موصول ہورہی ہے کہ رات کے اوقات میں برقی سربراہی منقطع کی جا نے لگی ہے اور شکایت پر رات کے اوقات میں کوئی مناسب جواب بھی نہیں دیا جارہا ہے بلکہ یہ کہنے پر اکتفاء کیا جا رہا ہے کہ کام جاری ہے اور عہدیدار فیلڈ پر ہیں۔ حکومت کی جانب سے ہدایات کے بعد محکمہ برقی بالخصوص ٹی ایس ایس پی ڈی سی ایل کی جانب سے سوشل میڈیا کے ذریعہ شکایات کی وصولی کا عمل شروع کیا گیا تھا اور اس عمل کے ذریعہ شکایات کی یکسوئی بھی ہونے لگی تھی لیکن اب اگر کوئی ٹوئیٹر پر شکایت کرتا ہے اور برقی سربراہی کے منقطع ہونے کی اطلاع دیتا ہے تو ایسی صورت میں سب شکایت کنندگا ن کو ایک ہی جواب دیا جا رہاہے ا ورکہا جا رہا ہے کہ فیڈر میں خرابی کا جائزہ لینے کے لئے عہدیدار دورہ کر رہے ہیں اور کچھ دیر میں برقی بحال کردی جائے گی لیکن سب کو یکساں جوابات اور برقی بحالی کے اقدامات نہ ہونے کے سبب یہ بات واضح ہورہی ہے کہ ان شکایات پر بھی اب کاروائی کے بجائے برائے نام جواب دیا جا رہاہے۔ چادرگھاٹ‘ ملک پیٹ ‘ پرانی حویلی‘ دارالشفاء کے علاوہ نورخان بازار اور دیگر علاقوں سے بھی روزانہ شام کو اس بات کی شکایات موصول ہو رہی ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ رات دیر گئے برقی سربراہی میں 2تا 3 گھنٹے خلل معمول کی بات بنتی جا رہی ہے۔اسی طرح دن کے اوقات میں بھی برقی سربراہی میں خلل پیدا ہونے کے سبب مشکلات پیدا ہورہی ہیں ۔