شہریوں میں رواداری بتدریج ختم، خود غرضی میں اضافہ سے رسوائی ممکن

سود خوروں کے ظلم کا شکار افراد کیلئے عدم ردعمل، اتحاد کی طاقت اور غم و غصہ کے اظہار سے حکومت پر بھی دباؤ ممکن

حیدرآباد ۔ 14؍ ڈسمبر ( سیاست نیوز) شہر میں رونما ہونے والے ناگہانی واقعات پر شہریوں کے عدم ردعمل کے باعث مجرمانہ سرگرمیوں میں بتدریج اضافہ ہو تا جا رہا ہے ۔ شہریوں کی جانب سے کسی بھی واقعہ پر ردعمل کا اظہار نہ کئے جانے سے ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ شہریوں کو اپنی نجی زندگی کے علاوہ باقی کسی چیز سے دلچسپی نہیں ہے ۔ چونکہ آئے دن شہر میں ہونے والے قتل و غارت گری ‘ عصمت ریزی ‘سود خوری ‘ جبری وصولی کے واقعات پر شہریوں کی جانب سے اختیار کردہ رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ شہر کا حصہ نہیں ہیں اور انہیں اس طرح کے واقعات سے کوئی دلچسپی بھی نہیں ہے ۔ حیدرآباد شہر کی شناخت شیروانی ‘ بریانی ‘ قوبانی ‘ چارمینار ‘ موتی کے علاوہ اس شہر کی رواداری بھی ہے ۔ لیکن حالیہ واقعات میں ملت کی جانب سے اختیار کردہ خاموشی سے ایسا محسوس ہوتا ہیکہ شہر یوں میں رواداری بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہے جو کہ شہر کی رسوائی کا سبب بن سکتی ہے ۔ گذشتہ دنوں شہر کے گنجان آبادی والے علاقہ چھتہ بازار میں دن دھاڑے قتل کا واقعہ پیش آیا اور جب تفصیلات منظر عام پر آئیں تو ہر شہری کی زبان پر سود خوروں کے خلاف الفاظ تھے لیکن کوئی ان کے اظہار کے لئے تیار نہیں ہوا ۔ شہر حیدرآباد کے ماضی قریب کا جائزہ لیا جائے تو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ کسی بازار کی معزز شخصیت کا انتقال ہو یا پھر بازار میں کوئی ناگہانی واقعہ پیش آجائے تو ایسی صورت میں مقامی تجارتی ادارے غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے ایک یوم کے لئے کاروبار بند کیا کرتے تھے لیکن حالیہ چھتہ بازار کے واقعہ پر جہاں پر سود خوروں کے مظالم کا شکار ہوئے نوجوان کے لئے ایسا کوئی غم و غصہ نہیں دیکھا گیا بلکہ دوسرے دن نماز جنازہ کے وقت کچھ دکانداروں نے اپنے تجارتی ادارے بند رکھتے ہوئے غم و غصہ کا اظہار کیا ۔ اگر ملت کو اس بات کا ایسا احساس ہوجائے کہ ان کے اتحاد کی طاقت کے ذریعہ اگر غم و غصہ کا اظہار کیا جائے تو سرکاری مشنری کو بھی ظالموں کے خلاف کارروائی پر مجبور ہونا پڑے گا تو یقیناً شہر میں کسی غنڈے یا سود خور کا ظلم باقی نہیں رہے گا ۔ ایسے عمل پر جو انسانیت سوز ہو اس پر ردعمل کے اظہار کے لئے ہچکچاہٹ کے بغیر شہری آواز اٹھانے لگیں تو ظالم کے ظلم سے مظلوم کو نجات دلائی جاسکتی ہے ۔ عام شہری ہی نہیں بلکہ شہر کے ذمہ داران ملت کے علاوہ عمائدین ملت اسلامیہ و قائدین کا بھی یہ وطیرہ بن چکا ہے کہ اگر کبھی اس طرح کا کوئی واقعہ پیش آئے تو چند دن کے لئے اس کے خلاف مہم چلائے اور پھر اس واقعہ کو اس طرح بھلا دیا جائے جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو ۔ 2009 میں چارمینار کی پہلی منزل سے ایک خاتون سمیرہ نامی لڑکی کو ارشد نامی لڑکے نے ڈھکیل دیا تھا جس کے سبب اس لڑکی جان چلی گئی ‘ لڑکی کی والدہ نے اس وقت یہ الزام عائد کیا کہ ارشد نے ان کے خاندان کو سود پر 14 ہزار روپئے دیئے تھے اور ان کا خاندان سود کی رقم ادا کرنے سے قاصر تھا اسی طرح کا ایک واقعہ بھوانی نگر کے علاقہ میں پیش آیا تھا جہاں سود خوروں کی جانب سے اضافی رقم کے مطالبہ سے دلبرداشتہ نوجوان نے پھانسی لیکر خودکشی کرلی تھی اور گذشتہ دنوں جاوید نامی نوجوان پر سود خوروں نے حملہ کرتے ہوئے اسے دن دھاڑے قتل کر دیا ۔ لیکن ہر واقعہ کے بعد کچھ دن ان سرگرمیوں پر روک لگانے کی کوشش ہوتی ہے اور پھر خاموشی اختیار کرلی جاتی ہے ۔ ملت اسلامیہ ‘ عمائدین ملت ‘ قائدین ملت کے علاوہ اگر علماء اور مشائخین کے جانب سے سود خوری کی لعنت کے خلاف منظم انداز میں مہم چلائی جائے اور نوجوان اس لعنت کے خلاف کھل کر اظہار خیال کرنے لگیں تو ممکن ہے کہ مستقبل میں کوئی سمیرہ یا جاوید سود کی عدم ادائیگی کے سبب موت کے گھاٹ نہیں اتارے جائیں گے بلکہ سودی کاروبار میں ملوث عناصر کو شہر بدر ہونے پر مجبور ہونا پڑے گا ۔ حکومت اور محکمہ پولیس کو چاہئے کہ وہ بھی سیاسی قائدین مذہبی نمائندوں کے خلاف مختلف محاذوں پر خدمات انجام دینے والی تنظیموں کے ذمہ داران کے تعاون سے شہر سے سود خوروں کے صفائے کی مہم کا آغاز کریں تاکہ شہر حیدرآباد کو اس طرح کے گھناونے جرائم سے پاک شہر بنایا جاسکے ۔ شہریان حیدرآباد بالخصوص نوجوانوں پر اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ شہر کو اس لعنت سے پاک بنانے کے لئے اقدامات میں تعاون کریں اور سود خوروں کے خلاف بولنے میں ہچکچاہٹ کے بجائے ان کی اعانت کرنے والوں کو بھی متنبہ کرنے میںعار محسوس نہ کریں ۔ علماء و مشائخین پر اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس طرح کی سرگرمیوں میں حصہ لینے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے سود خوروں کی مدد کرنے والوں کی حوصلہ شکنی یقینی بنائیں تاکہ شہر سے اس لعنت خاتمہ ہوسکے ۔