شہداء تلنگانہ کے ارکان خاندان کو حکومت سے بھرپور تعاون

حیدرآباد 26 نومبر (سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کی جانب سے شہدائے تلنگانہ کو مجاہدین آزادی کا موقف دینے کے متعلق کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا اور حکومت کی جانب سے شہدائے تلنگانہ کے افراد خاندان کو ہر طرح سے تعاون فراہم کئے جانے کے اقدامات کئے جارہے ہیں۔ علیحدہ ریاست تلنگانہ کے لئے اپنی جان کی قربانی دینے والوں کے افراد خاندان کو 10 لاکھ روپئے ایکس گریشیا، سرکاری ملازمت، زرعی اراضی کے علاوہ امکنہ اسکیم میں حصہ فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر جناب محمد محمود علی نے آج وقفہ سوالات کے دوران تلگودیشم رکن اسمبلی ای دیاکر راؤ کے سوال کا جواب دے رہے تھے۔ اسی دوران انھوں نے یہ تفصیلات فراہم کرتے ہوئے کہاکہ حکومت نے 1969 ء کے شہداء کو بھی خراج پیش کرنے اور مالی امداد فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جناب محمد محمود علی نے بتایا کہ اب تک 459 خاندانوں کی نشاندہی کرتے ہوئے انھیں شہدائے تلنگانہ کو فراہم کی جانے والی مراعات سے فائدہ پہونچانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

مزید نوجوانوں کی نشاندہی کا عمل جاری ہے۔ ڈپٹی چیف منسٹر نے ارکان اسمبلی سے خواہش کی کہ وہ بھی تلنگانہ کے لئے قربانی دینے والے نوجوانوں کے خاندانوں کی نشاندہی میں تعاون کرتے ہوئے ضلع کلکٹر کے توسط سے حکومت کو تفصیلات روانہ کریں تاکہ خاندان کو فائدہ پہونچایا جاسکے۔ انھوں نے مزید بتایا کہ حکومت نے شہدائے تلنگانہ کے افراد خاندان کو مفت طبی خدمات فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔ انھوں نے کہاکہ تلنگانہ راشٹرا سمیتی 14 سال تک علیحدہ ریاست تلنگانہ کی جدوجہد کرتی رہی ہے اور ٹی آر ایس کو اس بات کا بخوبی اندازہ ہے کہ تحریک میں کن مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

مسٹر ای دیاکر راؤ نے مباحث میں حصہ لیتے ہوئے کہاکہ سابق میں ٹی آر ایس یہ کہتی آئی ہے کہ 1200 سے زائد نوجوانوں نے علیحدہ ریاست کے حصول کے لئے اپنی جانیں قربان کی ہیں لیکن اب جب ان کی نشاندہی اور اُن کے خاندانوں کو فائدہ پہنچانے کی بات آرہی ہے تو اب تک 495 خاندانوں کی نشاندہی کی گئی ہے۔ انھوں نے حکومت سے مطالبہ کیاکہ محبوب آباد واقع میں معذور یا زخمی ہونے والوں کو بھی مستقل وظیفہ جاری کرنے کے احکامات جاری کئے۔ دیگر سیاسی جماعتوں کے قائدین نے بھی تحریک میں حصہ لینے والوں کو بس پاس کے علاوہ مستقل وظیفہ جاری کرنے کی حمایت کی۔ تلگودیشم پارٹی ارکان اسمبلی نے حسین ساگر کے قریب شہدائے تلنگانہ کی یادگار تعمیر کرنے کا بھی مطالبہ کیا۔ مسٹر ٹی ہریش راؤ وزیر امور مقننہ نے مباحث کے دوران ایوان کو تلنگانہ تحریک چلانے والوں پر درج کردہ مقدمات سے دستبرداری کے متعلق واقف کرواتے ہوئے کہاکہ حکومت نے ریاست کے تمام مقدمات سے دستبرداری اختیار کرلی ہے اور جو مقدمات ریلوے کی جانب سے درج کئے گئے ہیں وہ ریاست کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ اِس میں مرکزی مداخلت کی ضرورت ہے۔ اس سلسلہ میں حکومت کی جانب سے ضروری اقدامات پر غور کیا جارہا ہے۔