شوہر کی موت کے 4 سال بعد بھی غوثیہ بیگم معاوضہ سے محروم

معاوضہ دینے سے حکام کی طرح بلڈر کا بھی انکار ، اقلیتی کمیشن خاموش ، چار سالہ بیٹی اپنے ’ پپا ‘ کی منتظر
حیدرآباد ۔ 12 ۔ مئی : امی … پپا کہاں ہیں ؟ کب آئیں گے ؟ میرے لیے بسکٹس اور چاکلیٹس کب لائیں گے ؟ میں ان کے ساتھ اسکول جاؤں گی ، کھلونے خریدوں گی … یہ ایسے جملے ہیں جو نوجوان بیوہ غوثیہ بیگم کی چار سالہ بیٹی نازیہ بیگم کی زبان سے اکثر ادا ہوتے ہیں ۔ اپنے والد کے لیے اس معصوم لڑکی کی تڑپ اور پیار کو دیکھ کر غوثیہ بیگم ، ان کے غریب ماں باپ اور ایک بن بیاہی بہن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوجاتے ہیں ۔ لیکن یہ تمام اس چھوٹی سی لڑکی کو یہ بتانے کی ہمت نہیں کرتے کہ تمہارے والد تو اس دارفانی سے کوچ کرچکے ہیں ۔ بس ان کی یادیں باتیں اور تمہاری شکل میں ان کی نشانی باقی رہ گئی ہے ۔ قارئین ۔ یہ درد ناک اور غمگین کہانی ایک نوجوان خانگی الیکٹریشن محمد واجد علی مرحوم کی بیوہ اور ان کی چار سالہ بیٹی کی ہے ۔ محمد واجد علی ان 13 مہلوکین میں شامل تھے جو نارائن گوڑہ میں ایک تین منزلہ عمارت منہدم ہوجانے کے واقعہ میں اپنی زندگیوں سے محروم تھے ۔ 22 سال کی عمر میں اس حادثہ میں جاں بحق ہونے والے محمد واجد علی کی بیوہ اور بیٹی کو آج تک بلڈر اور نہ ہی حکومت سے کوئی معاوضہ حاصل نہیں ہوا ۔ حالانکہ یہ واقعہ پیش آئے چار سال کا عرصہ گذر چکا ہے ۔ محمد واجد علی نے غوثیہ بیگم کے ساتھ شادی کے بعد اپنے گھر والوں سے الگ رہ رہے تھے ۔ غوثیہ بیگم نے بتایا اس المناک حادثہ کے وقت ان کی شادی کو صرف ساڑھے پانچ ماہ کا عرصہ گذرا تھا اور وہ حاملہ تھیں۔ اس نے جب دنیا میں آنکھیں کھولی تو نازیہ کے لیے غوثیہ بیگم ہی اس کی ماں اور اس کا باپ تھیں ۔ غوثیہ بیگم نے روتے ہوئے راقم الحروف کو بتایا کہ بلڈر نے 4 تا 5 لاکھ روپئے معاوضہ ادا کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک اس نے ایک پیسہ بھی نہیں دیا ۔ حالانکہ وہ اور ان کے والدین بلڈر کے ہاں چکریں کاٹتے رہے اب تو وہ دھمکی آمیز انداز میں کہہ چکا ہے ’ جو کرنا ہے کرلو کچھ نہیں دوں گا ‘ ۔ دوسری طرف حکومت کی جانب سے بھی غوثیہ بیگم اور ان کی بیٹی کو اب تک معاوضہ کی رقم حاصل نہیں ہوئی جبکہ زیر تعمیر عمارت کے منہدم ہوجانے کے باعث اس کے ملبہ میں دب کر اپنی زندگیوں سے محروم ہونے والے مہلوکین کے خاندانوں کو فی کس 2 لاکھ روپئے معاوضہ کی ادائیگی کا اعلان کیا گیا تھا ۔ غوثیہ بیگم کے مطابق وہ سلیمان نگر چنتل میٹ میں اپنے ضعیف والدین کے ساتھ مقیم ہیں اور معاوضہ کی رقم کے علاوہ بلڈر کی جانب سے رقم کی عدم ادائیگی کے نتیجہ میں ان کا اور ان کی کمسن بیٹی کا گذارا مشکل ہوگیا ہے ۔ خود ان کے والدین باڑہ کے مکان میں رہتے ہیں ۔ والد پہلے بنڈی پر برف اور برف کے لڈو فروخت کیا کرتے تھے لیکن وہ ذیابطیس سے متاثر ہونے کے باعث گھر پر ہی آرام کررہے ہیں ۔ دو بھائی ہیں جن میں سے ایک آٹو چلاتے ہیں اور دوسرے فرنیچر کا کام کرتے ہیں ۔ جب کہ ان کی 2 بہنوں کی شادیاں ہوچکی ہیں ۔ اور ایک کی شادی ہونی باقی ہے ۔ غوثیہ بیگم کے مطابق وہ اپنے ضعیف ماں باپ پر بوجھ بننا نہیں چاہتی بلکہ معاوضہ کی رقم سے کچھ ’ چھوٹا موٹا ‘ کاروبار کرنے اور اپنی بیٹی کو کسی اچھے اسکول میں شریک کرانے کی خواہاں ہے ۔ غوثیہ بیگم نے یہ بھی بتایا کہ کچھ ہمدردوں نے انہیں ایڈیٹر سیاست جناب زاہد علی خاں سے ملاقات کرتے ہوئے انہیں اپنی بپتا سنانے کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ اخبار سیاست میں ان کے بارے میں رپورٹ شائع ہو تو شائد غفلت میں پڑے سرکاری حکام اور انسانیت سے عاری بلڈر کو ان کی غربت مجبوری ، بے بسی اور بے کسی کا احساس ہو ۔ غوثیہ بیگم کے مطابق 12 مارچ 2014 کو انہوں نے آندھرا پردیش اسٹیٹ میناریٹی کمیشن کے صدر نشین جناب عابد رسول خاں سے بھی نمائندگی کی جس میں انہوں نے بتایا کہ امجد بلڈر ساکن مراد نگر کے ہاں ان کے شوہر کام کیا کرتے تھے ۔ چنانچہ 5 فروری 2010 کو نارائن گوڑہ میں تین منزلہ عمارت جب منہدم ہوئی تھی اس وقت محمد واجد ولد محمد حامد علی مرحوم الیکٹریشن کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے تھے ، لیکن ملبہ میں دب کر ہلاک ہوجانے کے باوجود بلڈر نے وعدہ کے باوجود انہیں کوئی معاوضہ نہیں دیا لیکن افسوس کے اس نوجوان بیوہ اور اس کی 4 سالہ بیٹی کی مدد کے لیے ریاستی اقلیتی کمیشن نے بھی کوئی قدم نہیں اٹھایا بلکہ انتخابی مہم اور سیاسی سرگرمیوں کا بہانہ بناتے ہوئے اس غریب خاتون کی مدد سے گریز کیا گیا ۔ بہر حال غوثیہ بیگم اور ان کی بیٹی حکومت اور بلڈر کے ساتھ ساتھ اقلیتی کمیشن سے انصاف مانگ رہی ہیں ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ان کی مدد کے لیے ریاستی اقلیتی کمیشن حکومت اور بلڈر کو مجبور کرے گا یا دوسرے محکموں کے لاپرواہ عہدیداروں کی طرح خاموشی اختیار کرے گا ۔۔