شورش پسندی کے مسئلہ پر ہند ۔ بنگلہ دیش مذاکرات

نئی دہلی۔ 18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) امکان ہے کہ ہندوستان ، بنگلہ دیش سے خواہش کرے گا کہ شمال مشرقی ہند کے شورش پسندوں کو جو اس کی سرزمین پر روپوش ہیں، نکال باہر کیا جائے، سرحد پار اسمگلروں اور غیرقانونی نقل مقام کرنے والوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جائے، جبکہ دونوں ممالک کے سرحدی محافظین کی بات چیت ہوگی۔ سرحدی محافظین بنگلہ دیش (بی جی بی) کا ایک وفد 20 اگست کو ہندوستان پہنچنے کے لئے تیار ہے تاکہ سرحدی صیانتی فوج (بی ایس ایف) کے اپنے ہم منصبوں سے دو سالہ مذاکرات میں حصہ لے سکے۔ دونوں ممالک کے وفود کی قیادت ان کے ڈائریکٹر جنرلس کریں گے، اور توقع ہے کہ سرحدی صیانت، سرحدی علاقہ میں ساکن افراد کی حفاظت اور 4 ہزار کیلومیٹر سے زیادہ طویل سرحد پر جاری غیرقانونی سرگرمیوں کے مسائل پر بات چیت کریں گے۔ توقع ہے کہ ہندوستان شورش پسند اور دیگر غیرقانونی عناصر کا مسئلہ بھی اٹھائے گا جو مبینہ طور پر پڑوسی ملک کی سرزمین پر روپوش ہیں۔ علاوہ ازیں سرحد کو زیادہ محفوظ اور پرامن بنائے رکھنے کے طریقوں پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔ بنگلہ دیش کا وفد ہندوستان کے پانچ روزہ دورہ پر پہنچ رہا ہے۔ توقع ہے کہ بنگلہ دیش کے سرحدی محافظین کو بی ایس ایف اُن اقدامات کی تفصیل سے واقف کروائے گی جو زیادہ غیرمہلک ہتھیار استعمال کرنے کے بارے میں ہوگی تاکہ کھلی سرحد پر اموات کی تعداد میں کمی کی جاسکے۔ دونوں افواج توقع ہے کہ تبادلہ خیال کے مشترکہ ریکارڈس پر بھی دستخط کریں گے جس میں روایتی زمرہ بند معلومات برائے اسمگلرس اور سرحد کی دونوں جانب سرگرمیوں کا باہمی تبادلہ ہوگا۔ بات چیت نئی دہلی میں بی ایس ایف کے ہیڈکوارٹرس پر ہوگی۔