شرح سود میں 0.25 فیصد کی کمی، گھر، گاڑی اور قرض سستے ہونے کی امید

ممبئی، 6 جون (سیاست ڈاٹ کام) ریزرو بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی نے مہنگائی کے اہدافی دائرے میں رہنے کے درمیان اقتصادی سرگرمیوں میں آنے والی سستی کے پیش نظر سسٹم میں لیکویڈیٹی بڑھانے اور سرمایہ اخراجات میں کمی لانے کے مقصد سے پالیسی انٹریسٹ کی شرح میں ایک چوتھائی فیصد کی کمی کی ہے جس سے رہائش، گاڑی اور ذاتی قرض سمیت تمام قسم کے قرضے سستے ہونے کی امید ہے۔ کمیٹی نے رواں مالی سال کی قرض اور مانیٹری پالیسی پر تین روزہ دوسری دوماہی میٹنگ میں جمعرات کو متفقہ طور پر یہ فیصلہ کیا۔ اس کے ساتھ ہی کمیٹی نے اپنی غیر جانبداری برقرار رکھنے کی پالیسی میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے ‘ایکوموڈیٹو ’موقف اپنانے کا فیصلہ کیا ہے جس سے ضرورت پڑنے پر انٹریسٹ پالیسی کی شرح میں مزید کمی کئے جانے کا امکان ہے ۔ کمیٹی نے مسلسل تیسری میٹنگ میں انٹریسٹ پالیسی کی شرح میں کمی کی ہے ۔ اس سے پہلے فروری اور اپریل مہینے میں ہونے والی میٹنگوں میں بھی پالیسی کی شرح میں ایک چوتھائی فیصد کی کمی کی گئی تھی۔ اب تک تین بار میں مجموعی طور پر 0.75 فیصد کمی کی جا چکی ہے ۔آج کی کٹوتی کے بعد اب ریپو کی شرح چھ فیصد سے گھٹ کر 5.75 فیصد، ریورس ریپو کی شرح 5.75 فیصد سے کم ہو کر 5.50 فیصد، مارجنل اسٹینڈنگ فیسیلٹی شرح (ایم ایس ایف آر) 6.25 فیصد سے گھٹ کر چھ فیصد اور بینک کی شرح 6.25 فیصد کم ہو کر چھ فیصد ہو گئی ہے ۔ حالانکہ کیش ریزرو تناسب (سي آرآر) چار فیصد پر اور قانونی لیکویڈیٹی تناسب (ایل ایس آر) 19.25 فیصد پر جوں کی توں ہے ۔ کمیٹی کی میٹنگ کے بعد جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ فروری اور اپریل میں مجموعی طور پر کی گئی نصف فیصد کی کمی سے سسٹم میں لیکویڈیٹی اضافہ ہوا ہے ، لیکن اپریل اور مئی ماہ میں سرکاری اخراجات میں کمی آنے کی وجہ سے لیکویڈیٹی میں کمی آئی تھی۔ جون مہینے میں اب تک نظام میں انتہائی زیادہ لیکویڈیٹی کا یومیہ اوسط 66 ہزار کروڑ روپے ہے۔ قابل ذکر ہے کہ عام انتخابات کے دوران ضابطہ اخلاق نافذ ھونے سے سرکاری اخراجات میں کمی آئی تھی۔ سال 2018-19 میں اقتصادی سرگرمیوں میں بھاری کمی آئی اور اس دوران جی ڈی پی (جی ڈی پی)نمو کی شرح گر کر 6.8 فیصد پر آ گئی۔
اس سال مارچ میں ختم سہ ماہی میں تو جی ڈی پی میں اضافہ گر کر 5.8 فیصد پر آ گیا۔ سال 2017-18 میں بے روزگاری کی شرح بھی 45 سال کی بلند ترین سطح 6.1 فیصد پر پہنچ گئی۔

Leave a Comment