شرح ترقی میں بہتری کیلئے صرف مالیاتی محاذ پر توجہ کافی نہیں

برسبین 14 نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی کے اس خیال سے اتفاق کرتے ہوئے کہ صرف صحت اور معاشی مارکٹ کے شبہ میں بہتری لانے سے شرح ترقی میں بہتری نہیں آسکتی G20 بزنس قائدین نے آج کہا کہ عالمی معیشت کو انحطاط سے باہر لانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے جو اقدامات اور کوششیں کی جا رہی ہیں وہ اقتصادی اور مالیاتی پالیسی سے آگے ہونی چاہئیں۔ دنیا کے 20 کاروباری ممالک کے قائدین کا 20 ترقی یافتہ اور ترقی پذیر معیشتوں کی چوٹی کانفرنس کے موقع پر یہاں ایک اجلاس منعقد ہوا جس میں ایک دوسرے پر زور دیا گیا کہ وہ اصلاحات کے ایجنڈہ کو مستحکم بنائیں اور ہر ملک اپنی ترقی کی حکمت عملی کو زیادہ سے زیادہ موثر بنائے ۔

G20 ممالک کے بزنس قائدین پر مشتمل گروپ B20 کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گروپ کے صدر نشین رچرڈ گوئیڈر G20 چوٹی کانفرنس میں اس بات پر زور دینگے کہ وہ پانچ اہم پالیسی شعبہ جات جیسے فینانس ‘ انسانی سرمایہ ‘ انفرا اسٹرکچر ‘ تجارت اور شفافیت پر خاص توجہ دیں تاکہ ترقی کی رفتار کو بہتر بنایا جاسکے اور روزگار کے مواقع پیدا ہوسکیں۔ ہندوستان بھی G20 کا رکن ہے ۔ گوئیڈر نے کہا کہ جب سے معاشی بحران کا آغاز ہوا ہے حکومتوں نے کم شرح ترقی کو اقتصادی اور مالیاتی پالیسی کے ذریعہ سنبھالنے کی کوشش کی ہے ۔ تاہم جس سطح پر رقومات خرچ کی جا رہی ہیں وہ دیرپا نہیں ہوسکتیں اور نہ ہی اس سے عالمی معیشت کو دوبارہ سرگرم بنانے کیلئے تجارتی و صارفین کے جس اعتماد کو بحال کرنے کی ضرورت ہے وہ ممکن نہیں ہو پا رہا ہے ۔

آئندہ پانچ سال کے دوران شرح ترقی کو متوقع شرح سے دو فیصد سالانہ اضافی تک لیجانے گذشتہ سال کے G20 وزرائے فینانس کے فیصلے کا خیر مقدم کرتے ہوئے B20 گروپ نے کہا کہ دیرپا ترقی کیلئے ضروری ہے کہ صرف اعتماد کی فضا سے آگے بڑھتے ہوئے کاروباری سرمایہ کاری کو یقینی بنایا جائے ۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ کاروبار کیلئے اہل ماحول کے نتیجہ میں سرمایہ کاری میں اضافہ ہونا چاہئے ‘ پیداوار میں بہتری آنی چاہئے ۔ اس کے علاوہ معاشی سرگرمی اور ترقی میں بھی اضافہ درج کیا جانا چاہئے ۔

وزیر اعظم نریندر مودی نے اس کانفرنس میں شرکت کیلئے آسٹریلیا روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ بیروزگاری کی شرح میں اضافہ کو روکنے کیلئے عوام کے معیار زندگی میں تبدیلی لائے جائے اور نہ صرف نگہداشت صحت کے شعبہ اور معاشی مارکٹوں پر توجہ دی جانی چاہئے بلکہ روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے بھی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ قبل ازیں وزیراعظم نریندر مودی اپنے سہ قومی دورہ کے دوسرے مرحلہ میں آسٹریلیا پہونچے ۔ یہاں وہ G20 سالانہ چوٹی کانفرنس میں شرکت کرنے کے علاوہ آسٹریلیا کے وزیر اعظم ٹونی اباٹ سے باہمی ملاقات کرینگے ۔ مودی آسیان ۔ ہندوستان چٹی کانفرنس اور مشرق ایشیا چوٹی کانفرنس میں میانمار میں شرکت کے بعد آسٹریلیا پہونچے ہیں۔ مودی امکان ہے کہ G20 چوٹی کانفرنس میں کالے دھن کے مسئلہ پر توجہ مبذول کروانے کی کوشش کرینگے ۔ انہوں نے اس کانفرنس میں شرکت کیلئے روانگی سے قبل کہا تھا کہ وہ کالے دھن کے اہم مسئلہ پر اس کانفرنس میں اظہار خال کرینگے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیںکہ اس کانفرنس میں کالے دھن کے مسئلہ کو پیش کیا جائے کیونکہ یہ انتہائی اہمیت کا حامل ہے ۔ یہ دو روزہ چوٹی کانفرنس 15 اور 16 نومبر کو برسبین میں منعقد ہونے والی ہے ۔ وزیر اعظم مودی کانفرنس کے بعد دارالحکومت کینبرا جائیں گے اور وزیر اعظم آسٹریلیا ٹونی اباٹ سے باہمی ملاقات کرکے تبادلہ خیال کرینگے ۔