شدت کی گرمی آر ٹی سی مسافرین کے لیے بیحد تکلیف کا باعث

بسوں کی آمد و رفت میں تاخیر ، کئی بس اسٹاپس پر شیلٹرنک کی سہولت نہیں
حیدرآباد ۔ 21۔ اپریل : ( سیاست نیوز ) : ایک جانب شدید موسم گرما کی وجہ سے عوام و خواص پریشان ہیں اور ایسی شدید گرمی میں بھی شہریوں کو روزانہ کے کام کاج کے لیے گھر سے باہر سٹی بسوں کے ذریعہ سفر کرنا پڑتا ہے اور جب لوگ بس کے انتظار میں بس اسٹاپس پر کھڑے انتظار کرتے ہیں تو بسیں بھی وقت پر نہیں آتی ہیں اور مسافرین کو بس اسٹاپس کے پاس بس شلٹرس نہ ہونے کی وجہ سے شدید دھوپ میں کھڑے رہنا پڑتا ہے ۔ اس کے باوجود آر ٹی سی کی جانب سے مسافرین کو شدید ترین دھوپ سے بچانے کے لیے بس شلٹرس بھی فراہم نہیں کئے جارہے ہیں ۔ علاقہ نامپلی ریاستی اسمبلی کے سامنے واقع بس اسٹاپ پر مسافرین کو بے حد تکالیف کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور یہاں خواتین مسافرین دھوپ سے بچنے کے لیے سروں پر اپنی ساڑیوں کے پلو ، لڑکیاں اپنی اوڑھنیاں اور طلباء اپنی کتابوں کے ذریعہ سروں کو ڈھانپنے کی کوشش کررہے ہیں ۔ ماضی میں آل انڈیا ریڈیو عمارت کے پاس تین بس شلٹرس تھے اور میٹرو ریل پراجکٹ کی وجہ سے وہاں کے تینوں بس شلٹرس ہٹا دئیے گئے ہیں اور اس کے قریب ہی خالی جگہ ہے وہاں پر بس شلٹرس تعمیر کئے جاسکتے تھے مگر عہدیداران اس جانب بالکل توجہ ہی نہیں دے رہے ہیں جس کی وجہ سے ڈی جی پی آفس کے پاس عوام کی بھیڑ بسوں کے انتظار میں کھڑی رہنے پر مجبور ہے ۔ علاوہ ازیں نامپلی ہی کے علاقے روز گارڈن کے پاس بھی عوام کو شدید دھوپ میں سڑک پر ہی بسوں کا انتظار کرنا پڑرہا ہے ۔ کیوں کہ یہاں بھی بس شلٹرس نہیں ہیں جس کی وجہ سے مسافرین کو مجبورا سڑک پر ہی کھڑے رہنا پڑرہا ہے ۔ اور اس علاقے میں گاڑیاں تیز رفتار سے آتی ہیں اور حادثات کے شدید خطرات لاحق ہیں اور نامپلی میں ہی لتا کامپلکس کے پاس بھی بس شلٹر تھا اور اس مقام پر ایک بڑی عمارت تعمیر کی جانے کی وجہ سے بس شلٹر غائب ہوچکا ہے اسی طرح سیتارام باغ فرنڈس کیفے کے پاس ، نامپلی ٹیک کی مسجد کے پاس ، ملے پلی ریلاکس ہوٹل کے پاس ، آصف نگر قدیم پی ایس کے پاس ، بازار گھاٹ کے علاوہ بہت سارے علاقوں میں بس شلٹرس نہیں ہیں اور مسافرین کا مطالبہ ہے کہ انتظامیہ فوری اس جانب توجہ دیتے ہوئے بس شلٹرس تعمیر کئے جائیں تاکہ انہیں شدید دھوپ اور گرمی سے محفوظ رہنے میں مدد ملے اور ایم این جے کینسر دواخانہ کے پاس ایک ادارے نے ہزاروں روپئے خرچ کر کے بس شلٹر تعمیر کیا ہے مگر وہاں لوگ ناجائز طریقہ سے اپنی گاڑیاں پارک کررہے ہیں جس کی وجہ سے مسافرین بس شلٹر کا استعمال نہیں کرپا رہے ہیں علاوہ ازیں وہاں بسوں کو روکنے کے لیے جگہ نہ ہونے کی وجہ سے ڈرائیورس آگے جاکر روک رہے ہیں اور مسافرین کو بسوں میں سوار ہونے کے لیے مجبوراً دوڑ لگانا پڑرہا ہے اور یہ بس شلٹرس گندگی سے بھرا ہوا ہے تو اسی میں بھکاری بڑے سکون سے آرام کررہے ہیں جس کی وجہ سے یہ بس شلٹرس مسافرین کے استعمال کے بالکل ہی لائق نہیں ہے اور اس طرح اے سی گارڈ کے پاس کا بس شلٹر بھی مسافرین کے لیے فائدہ مند نہیں ہے گزشتہ چند دنوں تک جے ین ٹی یونیورسٹی کے پاس بس اسٹاپ تھا مگر عہدیداروں نے بس اسٹاپ کو وہاں سے میونسپل ڈائرکٹریٹ کے پاس منتقل کرتے ہوئے بس شلٹر تعمیر کیا ہے جب کہ قدیم بس اسٹاپ کے پاس واقع بس شلٹر بے کار ہے اور یہاں بسیں بھی نہیں روکی جارہی ہیں ۔ نیلوفر کیفے کے پاس سے مسافرین کو پرانے شہر کے علاقے چارمینار اور دیگر علاقوں کو جانے کے لیے بس اسٹیج ہے مگر وہاں بسیں نہیں روکی جارہی ہیں ۔ علاوہ ازیں شہر کے مختلف علاقوں میں بس شلٹرس نہ ہونے کی وجہ سے عوام شدید گرمیوں اور دھوپ کی وجہ سے بے حد پریشان ہیں ۔ عہدیداران کو چاہئے کہ موسم کی مناسبت سے فوری اقدامات کرتے ہوئے شہریان کو راحت پہنچائیں ۔۔