شخصیت سازی کیلئے اردو تعلیم ضروری

ڈاکٹر عبدالرشید جنید کی تصنیف کی رسم اجراء تقریب، ڈاکٹر اسلم پرویزو دیگرکا خطاب

حیدرآباد۔ 23؍مارچ ۔ ( پریس نوٹ ) ۔ وائس چانسلر مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی ڈاکٹر اسلم پرویز نے اس بات پر زور دیا کہ یونیورسٹیز سے زیادہ اردو کے اچھے معیاری پرائمری اسکولس کے قیام کی ضرورت ہے کیوں کہ نئی نسلوں کی آبیاری اور شخصیت سازی کا سلسلہ پرائمری اسکول سے شروع ہوتا ہے۔ طلبہ اور اساتذہ کا اس میں بڑا اہم رول ہوتا ہے۔ عموماً اساتذہ پرائمری سطح پر تدریس کو معیوب سمجھتے ہیں۔ ڈاکٹر اسلم پرویز 22؍مارچ کی شام میڈیا پلس آڈیٹوریم میں ڈاکٹر محمد عبدالرشید جنید کی کتاب ’’خلیجی ممالک میں اردو کی نئی بستیاں‘‘ کی تقریب رسم رونمائی سے خطاب کررہے تھے۔ مولانا مفتی محمد خلیل احمد شیخ الجامعہ جامعہ نظامیہ، مولانا خواجہ بہاء الدین فاروق انجینئر شہہ نشین پر موجود تھے۔ محترمہ فاطمہ بیگم پروین نے صدارت کی۔ پروفیسر ایس اے شکور اسپیشل آفیسر حج کمیٹی اور ڈاکٹر عابد معز کنسلٹنٹ اردو مرکز برائے فروغ علوم مانو نے مہمانان ذی وقار کی حیثیت سے شرکت کی۔ ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز نے خیر مقدم کیا۔ سید خالد شہبازنے نظامت کی۔ ڈاکٹر محمد اسلم پرویز نے کہا کہ شخصیت اور کردار سازی میں مادری زبان کا بڑا اہم رول رہتا ہے۔ قرآن فہمی‘ سیرت طیبہ سے واقفیت کے لئے مادری زبان میں تعلیم ضروری ہے۔پروفیسر فاطمہ بیگم پروین نے جامعہ نظامیہ حیدرآباد کی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور کہا کہ حضرت انواراللہ فاروقیؒ نے شخصیت سازی کی تعلیم دی۔ جامعہ نظامیہ کے فارغ التحصیل ہر شعبہ حیات میں اپنی قابلیت اور صلاحیت کا لوہا منوارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈاکٹر عبدالرشید جنید نے جس محنت کے ساتھ ’’خلیجی ممالک میں اردو کی نئی بستیاں‘‘ تلاش کی ہیں وہ قابل تعریف ہے۔ اگرچہ کہ حالات بدل رہے ہیں‘ روزگار کے مواقع کم ہورہے ہیں مگر اللہ کی زمین تنگ نہیں ہے۔پروفیسر ایس اے شکور نے ریاستی حکومت کی جانب سے اردو کی ترقی، بقاء، ترویج و اشاعت کے لئے کئے جانے والے اقدامات پر تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ میں اردو کے فروغ کے لئے ماحول سازگار ہے۔ ڈاکٹر عابد معز نے کہا کہ اردو کی نئی بستیاں انہی لوگوں نے آباد کیں جو ہندوستان سے وہاں آباد ہوئے۔ ڈاکٹر عبدالرشید جنید نے ریسرچ کے لئے جن صبر آزما حالات سے انہیں گذرنا پڑا اس کا ذکر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقالے کی تیاری کے لئے انہیں سعودی عرب سے پانچ مرتبہ حیدرآباد آنا پڑا۔ ڈاکٹر سید فاضل حسین پرویز نے اپنی خیر مقدمی تقریر میں نیوزی لینڈ کے شہیدوں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔مولانا خواجہ بہاء الدین اور فاروق انجینئر نے نیوزی لینڈ کے شہیدوں کے لئے مغفرت کی دعا کی۔ قاری محمد عبدالرافع ابراہیم کی قرأت کلام پاک سے تقریب کا آغاز ہوا۔ محمد عبدالعزیز فضیل نے ترجمہ قرآن پیش کیا۔ اس تقریب میں شرکاء کی کثیر تعداد موجود تھی۔مولانا مفتی خلیل احمد کی دعاء پر اختتام عمل میں آیا۔