حیدرآباد ۔ 5 ۔ مارچ : ( نمائندہ خصوصی ) : ہمارے شہر حیدرآباد فرخندہ بنیاد کو ملک کا سب سے بہترین رہائشی شہر قرار دیا گیا ہے ۔ مرسرس نے معیار زندگی و رہائش کے لحاظ سے عالمی سطح پر موتیوں کے اس شہر کو 138 واں مقام عطا کیا ہے جب کہ مساجد و میناروں کے اس شہر نے معیار رہائش کی بنیادوں پر کی گئی درجہ بندی میں پونہ ، بنگلور ، چینائی یہاں تک کہ دارالحکومت دہلی کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ۔ اس کے باوجود شہر کے کچھ علاقے ایسے ہیں جہاں کے مکین آج بھی نلوں میں آلودہ پانی آنے کی شکایت کرتے ہیں ایسی ہی ایک شکایت شاہ گنج روہیلہ مسجد کے اطراف و اکناف رہنے والے لوگوں کی ہے ان لوگوں کا کہنا ہے کہ کافی عرصہ سے نلوں میں انتہائی بدبودار اور آلودہ پانی آرہا ہے ۔ جس کا رنگ دیکھ کر کوئی بھی اسے پانی نہیں کہہ سکتا ۔ یہ پانی اس قدر آلودہ ہے کہ وہ پینے کے قابل ہے اور نہ ہی اس سے صاف صفائی کی جاسکتی ہے ۔ اس علاقہ کے بعض لوگوں نے بطور ثبوت بوتل میں پانی حاصل کرتے ہوئے میڈیا کو دکھایا اور بتایا کہ حیدرآباد میٹرو پولیٹن واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ HMWS & SB کے حکام سے باربار نلوں میں آلودہ پانی آنے کی شکایت کی گئی لیکن سب کے سب مجرمانہ غفلت اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ مقامی عوام کا کہنا ہے کہ شائد یہ عہدہ دار سال 2009 کے دوران بھولکپور مشیر آباد میں پیش آئے اس سانحہ کا شاہ گنج میں بھی انتظار کررہے ہیں جس میں تقریبا 17 افراد آلودہ پانی پینے کے نتیجہ میں فوت ہوئے تھے ۔ عوام کا کہنا ہے کہ حکام آلودہ پانی کے بارے میں صرف یہی کہہ رہے ہیں کہ ڈرینج لائنس کے قریب سے جو پائپ گذر رہے ہیں اس میں آلودہ پانی داخل ہورہا ہے ۔ اگر بات یہ ہے تو پھر نئی پائپ لائن کیوں نہیں بچھائی جاتی ویسے بھی ہمارے شہر میں سال بھر سڑکوں کی کھدائی اور پھر بچھائی کا کام جاری رہتا ہے ۔ حکام کو اس سنگین مسئلہ پر فوری توجہ مرکوز کرنی چاہئے ۔ انہیں اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ ان کی مجرمانہ غفلت کے نتیجہ میں ایک بڑا سانحہ پیش آسکتا ہے ۔ اس سے پہلے کے عوام کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوجائے حکام اس مسئلہ کے حل کے لیے فوری اقدامات کریں ۔۔