نئی دہلی 21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے آج کہا کہ جامع مسجد دہلی کے شاہی امام سید احمد بخاری کی جانب سے اپنے فرزند کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے۔ تاہم عدالت نے ہفتہ، کو مقررہ دستار بند ی روکنے سے حکم التواء جاری کرنے سے انکار کردیا۔ چیف جسٹس جی روہنی اور جسٹس آر ایس انڈلو کی بنچ نے کہا کہ دستار بندی کی تقریب قانونی نہیں ہے اور عدالت ان کے (امام) حق میں کوئی خصوصی مساوات نہیں دے گی۔ بنچ نے اس سلسلہ میں نوٹس جاری کرتے ہوئے مرکزی حکومت وقف بورڈ اور شاہی امام سے جواب طلب کیا ہے ۔ شاہی امام کے فیصلہ کے خلاف کہ وہ اپنے فرزند کو نائب امام مقرر کرنے کیلئے دستار بندی تقریب منعقد کررہے ہیں۔ واضح کرتے ہوئے مفاد عامہ کی تین درخواستوں کو عدالت میں داخل کیا گیا ہے۔ عدالت نے وقف بورڈ سے سوال کیا ہے کہ آیا اس نے اب تک امام بخاری کے خلاف کوئی کارروائی کیوں نہیںکی ۔ شاہی امام کے فیصلہ کو چیلنج کرتے ہوئے داخل کردہ 3 مفاد عامہ کی درخواستوں پر مباحث کے دوران جمعرات کے دن مرکز اور وقف بورڈ نے عدالت سے نائب مقرر کرنے اور دستار بندی کرنے کی تقریب منعقد کرنے کا کوئی قانونی جواز نہیں ہے ۔ بورڈ نے عدالت سے استفسار کیا تھا کہ اس مسئلہ پر اس کا کیا قانونی موقف ہے کیونکہ شاہی امام اس تقریب کو منعقد کرنے والے ہیں تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے جس پر عدالت نے تقریب روکنے سے انکار کردیا