امریکہ نے باغیوں کو اسلحہ کی فراہمی کا کوئی اشارہ نہیں دیا، انتہا پسندوں سے نمٹنے کیلئے لائحہ عمل پر اتفاق
واشنگٹن، 14 مئی (سیاست ڈاٹ کام) شام کے اپوزیشن رہنما احمد الجربا کی قیادت میں ایک وفد نے امریکی صدر براک اوباما سے اہم ملاقات کی ہے جس میں شام کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ چہارشنبہ کو علی الصبح وائٹ ہاؤس کے جاری کردہ بیان میں بتایا گیا ہے کہ احمد الجربا اور امریکی صدر کے درمیان طویل ملاقات ہوئی۔ تاہم اس بیان میں ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ امریکہ شامی اپوزیشن کے مطالبے پر باغیوں کو صدر بشار الاسد کے خلاف لڑائی کیلئے ہتھیار مہیا کرے گا یا نہیں۔ اس ملاقات کے موقع پر امریکی قومی سلامتی کی مشیر سوزین رائس بھی موجود تھیں۔ احمد الجربا کی امریکی حکام کے ساتھ ملاقات پونے دو گھنٹے پر محیط رہی، جس میں صدر اوباما آدھ گھنٹہ شریک ہوئے۔ وائٹ ہاؤس کے ذریعے نے شامی اپوزیشن لیڈر کے ساتھ اس میٹنگ کو ’’نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے صدر اوباما اور نیشنل سکیورٹی کونسل کی ایڈوائزر رائس نے کہا کہ بشارالاسد شام میں حکومت اور اقتدار کا حق کھو چکے ہیں۔ شام کے مستقبل میں ان کی کوئی جگہ نہیں ہے۔
صدر اوباما نے شامی اپوزیشن کے کردار کی تعریف کی اور ساتھ ہی احمد الجربا پر زور دیا کہ وہ کسی ایک طبقے کے بجائے تمام شامی باشندوں کی نمائندہ حکومت کی تشکیل کی کوشش کریں۔ شامی اپوزیشن لیڈرنے امریکہ کی جانب سے غیر فوجی مقاصد کیلئے 287 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنے پر اوباما انتظامیہ کا شکریہ ادا کیا۔ تاہم وائٹ ہاؤس کے بیان میں ایسا کوئی اشارہ نہیں دیا گیا کہ امریکہ شامی اپوزیشن کو بشار الاسد کے خلاف لڑائی کیلئے اسلحہ بھی فراہم کرے گا یا نہیں کیونکہ گزشتہ ایک ہفتے سے امریکہ میں موجود احمد الجربا نے متعدد بار واشنگٹن سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ بشارالاسد کے خلاف جنگ جیتنے کیلئے شامی باغیوں کو طیارہ شکن میزائل اور دیگر اسلحہ بھی فراہم کرے۔ بیان کے مطابق ملاقات کے دوران شام میں جاری خانہ جنگی میں انتہا پسندی کے فروغ پر بات چیت کی گئی۔ امریکی صدر، سوزین رائس اور احمد الجربا تینوں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ شامی جنگ میں انتہا پسند عناصر بھی شامل ہو گئے ہیں۔ انتہا پسندوں سے نمٹنے کیلئے متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے پر بھی اتفاق کیا گیا۔ بعد ازاں میڈیا سے گفتگو میں شامی اپوزیشن وفد کی رکن ریما العلاف نے کہا کہ امریکی صدر نے میٹنگ کے دوران دو باتوں پر زیادہ زور دیا۔ ایک یہ کہ شامی اپوزیشن دھڑے اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کے ساتھ فوجی اور سیاسی تنظیموں میں ہم آہنگی پیدا کریں اور دوم یہ کہ امریکہ صرف شام میں موجودہ دہشت گردی اور تشدد کو نہیں دیکھ رہا بلکہ واشنگٹن کی نظریں شام کے مستقبل پر بھی لگی ہوئی ہیں۔ اس لئے امریکہ کوئی بھی فیصلہ شام کے مستقل کو مدنظر رکھ کر کرے گا۔