شادی مبارک اسکیم کے درخواستوں کی یکسوئی کیلئے اضافی عملہ کی خدمات

انکوائری کے عمل میں سرعت کیلئے محمد جلال الدین اکبر کی ہدایت

حیدرآباد 17 مارچ (نمائندہ خصوصی) شادی مبارک اسکیم پر مؤثر عمل آوری میں ناکامی سے متعلق سیاست میں 11 مارچ کی اشاعت میں ایک خصوصی رپورٹ شائع ہوئی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ عملہ کی کمی اور شرائط کے نتیجہ میں درخواستوں کی یکسوئی میں غیرمعمولی تاخیر ہورہی ہے۔ چنانچہ اس رپورٹ کا اثر یہ ہوا کہ محکمہ اقلیتی بہبود نے شادی مبارک اسکیم کے تحت موصول درخواستوں کی انکوائری و یکسوئی کے لئے اُردو اکیڈیمی اور اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے ایگزیکٹیو ڈائرکٹرس اور دوسرے اسٹاف کی خدمات حاصل کرلی ہیں۔ ذرائع کے مطابق جناب جلال الدین اکبر نے یہ اندازہ لگاتے ہوئے کہ عملہ کی کمی کے باعث درخواستوں کی یکسوئی میں مشکلات پیش آرہی ہیں۔ اقلیتی بہبود کے تحت کام کرنے والے دیگر محکمہ جات کے عملہ کی خدمات حاصل کرلی اور اب اُمید ہے کہ مارچ کے ختم تک اچھی خاصی تعداد میں درخواستوں کی یکسوئی کرلی جائے گی۔ اس بات کا بھی پتہ چلا ہے کہ حیدرآباد میں اس کام کیلئے ضلع رنگاریڈی کے محکمہ اقلیتی بہبود کے دفتری عملہ کی خدمات بھی حاصل کی جارہی ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ضروری ہوگا کہ ایک ہفتہ قبل تک حیدرآباد میں جملہ 1460 اور ضلع رنگاریڈی میں جملہ 660 درخواستیں موصول ہوئی تھیں جن میں سے بالترتیب 700 اور 575 درخواستوں کی یکسوئی ہوچکی ہے۔ اس طرح دونوں ضلعوں میں جملہ 745 درخواستوں کی یکسوئی ہنوز باقی تھی۔ اسپیشل آفیسر وقف بورڈ و ڈائرکٹر محکمہ اقلیتی بہبود جناب محمد جلال الدین اکبر نے ماتحت عہدیداروں کو واضح ہدایت دی ہے کہ وہ جتنا ممکن ہوسکے تیزی کے ساتھ انکوائری کرتے ہوئے درخواستوں کی یکسوئی کو یقینی بنائے۔ سیاست نے غریب مسلمانوں میں شادی مبارک اسکیم کے بارے میں شعور بیدار کرنے میڈیا مہم چلانے کے ساتھ ساتھ درخواستوں کے مفت آن لائن ادخال کا استعمال کیا ہے۔ لڑکیوں کے لئے درکار سرٹیفکٹس کے حصول میں بھی ان کی رہنمائی کی ہے اور اس رہنمائی کا سلسلہ جاری ہے۔ غریب اور متوسط خاندانوں کی لڑکیاں اس اسکیم سے استفادہ کرسکتی ہیں انھیں چند شرائط کی تکمیل اور دستاویزات کے ادخال کے بعد 51 ہزار روپئے دیئے جاتے ہیں۔ رقم لڑکی کے اکاؤنٹ میں جمع کردی جاتی ہے۔ شادی سے کم از کم 30 یوم قبل بھی درخواستیں داخل کی جاسکتی ہیں۔