شادی مبارک اسکیم کی شرائط میں نرمی کے مثبت اثرات

درخواستوں کے ادخال میں تیزی ۔ عاجلانہ یکسوئی کیلئے عہدیداروں کی کوششیں
حیدرآباد۔/31مارچ، ( سیاست نیوز) حکومت کی جانب سے غریب مسلم لڑکیوں کی شادی کے موقع پر امداد سے متعلق شادی مبارک اسکیم کی شرائط میں نرمی کے بعد اسکیم سے استفادہ کرنے والوں کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔ محکمہ اقلیتی بہبود کے ذرائع نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے دی گئی رعایت کے بعد سے درخواستوں کے ادخال کی رفتار تیز ہوچکی ہے اور عہدیدار اس بات کی کوشش کررہے ہیں کہ درخواستوں کی عاجلانہ یکسوئی کو یقینی بنایا جائے۔ حکومت نے 24مارچ کو جی او ایم ایس 16جاری کرتے ہوئے امیدواروں کیلئے برتھ سرٹیفکیٹ کے لزوم کو ختم کردیا تھا اور اس کی جگہ ووٹر شناختی کارڈ، راشن کارڈ یا آدھار کارڈ کو قابل قبول قرار دیا گیا۔ اس رعایت کے بعد سے درخواستوں کے ادخال کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈائرکٹر اقلیتی بہبود جلال الدین اکبر نے بتایا کہ غریب خاندانوں کیلئے تحصیلدار کے آفس سے برتھ سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں دشواریوں کا سامنا تھا۔ اس سلسلہ میں مختلف گوشوں سے نمائندگی کی گئی اور حکومت نے اس شرط میں رعایت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ایس سی، ایس ٹی طبقات کیلئے اعلان کردہ کلیان لکشمی اسکیم سے زیادہ شادی مبارک اسکیم پر کامیابی سے عمل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے 31مارچ تک کے اعداد و شمار پیش کئے جس کے مطابق تلنگانہ میں اس اسکیم کے تحت جملہ 4898 خاندانوں کو امداد جاری کی گئی جبکہ 6884 درخواستیں داخل کی گئیں۔ انہوں نے بتایا کہ 5570 درخواستوں کو جانچ کے بعد منظوری دی گئی ہے اور 5376درخواستیں رقم کی اجرائی کیلئے ٹریژری روانہ کی گئیں۔ حیدرآباد میں 1826 درخواستیں داخل کی گئیں جن میں سے 1161 خاندانوں میں امداد تقسیم کی گئی۔ حیدرآباد میں ہی 65 مزید خاندانوں کو امداد جاری کی گئی تاہم انہیں آن لائن اَپ ڈیٹ نہیں کیا جاسکا۔ عادل آباد میں 591، کریم نگر 341، کھمم 205، محبوب نگر 312، میدک 350، نلگنڈہ 271، نظام آباد 643، رنگاریڈی 694 اور ورنگل میں 250 خاندانوں میں امداد جاری کردی گئی۔ اسی مدت کے دوران کلیان لکشمی اسکیم کے تحت ایس ٹی طبقہ کے 1909 اور ایس سی طبقہ کے4320 خاندانوں میں شادی کے موقع پر امداد جاری کی گئی۔ حکومت نے کلیان لکشمی اسکیم کے مقابلہ شادی مبارک اسکیم پر کامیاب عمل آوری اور اسٹاف کی کمی کے باوجود بہتر نتائج پر اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

Leave a Comment