تقاریب رات 12 بجے ختم کرنے پولیس احکامات ضروری
صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے جنوری میں مہم شروع کی تھی، سیاسی دباؤ کے تحت اصلاحی مہم ناکام
حیدرآباد ۔ 23 ۔ جولائی (سیاست نیوز) شادی بیاہ کے موقع پر اسراف، بیجا رسومات ، خرافات اور غیر شرعی امور سے مسلمانوں کو بچانے کے لئے پھر ایک مرتبہ بحث کا آغاز ہوچکا ہے۔ پرانے شہر کے ایک فنکشن ہال میں گزشتہ دنوں نیم عریاں رقص، آرکسٹرا اور دولت کے بے دریغ خرچ سے متعلق سوشیل میڈیا میں خبروں کے عام ہونے کے بعد عوام میں یہ مسئلہ پھر ایک بار موضوع بحث بن گیا ہے ۔ ایسے وقت جبکہ مختلف مذہبی اور سماجی تنظیموں نے اجلاس منعقد کرتے ہوئے بے جا رسومات اور اسراف والی شادیوں کے بائیکاٹ کا فیصلہ کیا۔ دوسری طرف پرانے شہر میں ولیمہ کی تقریب میں تمام حدود سے تجاوز کرتے ہوئے غیر شرعی حرکات کی گئیں۔ شہر کے مضافاتی علاقوں میں اس طرح کے واقعات کا سلسلہ جاری ہے لیکن سوشیل میڈیا پر منظر عام پر آنے کے سبب پرانے شہر کی یہ تقریب مذہبی و سیاسی قائدین اور پولیس کیلئے چیلنج بن چکی ہے ۔ پولیس عہدیداروں کی جانب سے آرکسٹرا ، باجہ اور رات دیر گئے تک دعوتوں کو روکنے کیلئے کارروائی کی بات کہی جارہی ہے لیکن گزشتہ ایک سال سے شہر کے عوام پولیس کے بیانات سننے کے عادی بن چکے ہیں۔ سیاسی سرپرستی اور پولیس کی ملی بھگت کے سبب اس طرح کی تقاریب منعقد کی جاتی ہے۔ واضح رہے کہ 23 جنوری 2018 ء کو صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم نے مشاورتی اجلاس طلب کیا تھا جس میں شہر کے سرکردہ علماء و مشائخین کے علاوہ پولیس کے اعلیٰ عہدیداروں اور قاضی حضرات نے شرکت کی تھی۔ اجلاس میں طئے کیا گیا کہ شادی اور دیگر تقاریب کو رات 12 بجے ختم کردیا جائے ۔ اس سلسلہ میں پولیس نے احکامات جاری کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ اجلاس میں نکاح کو مسجد میں انجام دینے ، ڈنر میں سادگی ، بارات میں اسلحہ کے استعمال سے گریز جیسی تجاویز پیش کی گئی تھی۔ تقاریب کو شریعت کے مطابق بنانے آرکسٹرا اور خوا تین کے رقص کو روکنے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اس طرح غیر شرعی شادیوں کے بائیکاٹ کی اپیل کی گئی تھی ۔ قاضیوں کو مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ رات 9 بجے کے بعد نکاح نہ پڑھیں۔ فنکشن ہال کا انتظامیہ رات 12 بجے الیکٹرسٹی بند کردے تاکہ میزبان اور مہمان ایک گھنٹہ میں فنکشن ہال خالی کردیں۔ مشاورتی اجلاس میں جو فیصلے کئے گئے اس کا مسلمانوں کی جانب سے خیرمقدم کیا گیا لیکن اجلاس کے دوسرے ہی دن سیاسی دباؤ کے تحت حکومت میں شامل افراد نے اجلاس کے فیصلوں کی مخالفت کی اور اسے شادی بیاہ میں مداخلت سے تعبیر کیا۔ اس طرح صدرنشین وقف بورڈ کی جانب سے شروع کی گئی تحریک کو نقصان پہنچاتے ہوئے روک دیا گیا۔ اب جبکہ شادی بیاہ کے موقع پر اسراف اور غیر شرعی رسومات دوبارہ عروج پر ہیں پولیس اور سماجی تنظیمیں قابو پانے کیلئے مختلف تجاویز پر غور کر رہی ہے ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گزشتہ سال پرانے شہر کے مینار فنکشن ہال میں ڈپٹی کمشنر پولیس ساؤتھ زون کی صدارت میں فنکشن ہالس کے مالکین اور ذمہ داروں کا اجلاس منعقد ہوا تھا ۔ پرانے شہر کے 188 فنکشن ہالس کے ذمہ داروں نے اجلاس میں شرکت کی ۔ اجلاس میں تمام مالکین نے پولیس کو اس بات کی اجازت دی کہ وہ تقریب کے رات 12 بجے اختتام کے سلسلہ میں احکامات جاری کرے۔ پولیس کی جانب سے ایک فتویٰ جامعہ نظامیہ سے حاصل کیا گیا جس میں رات 12 بجے تقریب کے اختتام اور غیر شرعی امور کو روکنے کی اجازت حاصل کی گئی ۔ پولیس کے پاس جامعہ نظامیہ کا فتویٰ آج بھی موجود ہے لیکن افسوس سیاسی دباؤ کے تحت پولیس نے رات 12 بجے کے احکامات جاری نہیں کئے ۔ پرانے شہر میں 3 مختلف مقامات پر رقص کے دوران اسلحہ کے استعمال سے تین افراد کی ہلاکت واقع ہوئی تھی۔ شادی بیاہ کے موقع پر دولت کے بیجا استعمال اور غیر شرعی امور کو روکنے میں مذہبی اور سیاسی قائدین کو پولیس پر دباؤ بنانا چاہئے کہ وہ رات 12 بجے کی پابندی عائد کرے۔ سماجی تنظیموں کو بھی شعور بیداری کے سلسلہ میں اہم رول ادا کرنا چاہئے ۔ صدرنشین وقف بورڈ محمد سلیم کی مساعی پر کارروائی کا آغاز کیا جاتا تو شاید گزشتہ 6 ماہ کے دوران شادی بیاہ کی تقاریب میں غیر شرعی رسومات پر بڑی حد تک قابو پایا جاسکتا تھا ۔ حکومت اور برسر اقتدار پارٹی میں شامل مسلم قائدین کو اس جانب توجہ دینا چاہئے تاکہ باقاعدہ طور پر رات 12 بجے تقاریب کے اختتام کے احکامات جاری کئے جائیں۔ لاکھوں روپئے کے اسراف کے بجائے غریب خاندانوں کی لڑکیوں کی شادی کا اہتمام کیا جاسکتا ہے۔