سی پی آئی ایم ، کے سی آر کے تھرڈ فرنٹ میں شامل نہیں ہوگی

چیف منسٹر کو ایک اور دھکہ ، بائیں بازو پارٹی کو ساتھ لینے کی کوشش ناکام
حیدرآباد۔ 19 اپریل (سیاست نیوز) سی پی ایم کے قومی جنرل سیکریٹری سیتا رام یچوری نے کے سی آر کی جانب سے تشکیل دیئے جانے والے تھرڈ فرنٹ کو موسیٰ ندی قرار دیتے ہوئے اس میں شامل ہونے سے انکار کردیا۔ سی پی ایم کو ساتھ لینے چیف منسٹر تلنگانہ کی کوشش بھی رائیگاں ہوگئی۔ واضح رہے کہ دو ہفتے قبل سربراہ ٹی آر ایس و چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے سی پی ایم کے پولیٹ بیورو رکن بی وی راگھولو اور تلنگانہ سی پی ایم کے سیکریٹری ٹی ویرا بھدرم کو پرگتی بھون طلب کرکے ملک و ریاست کی تازہ سیاسی صورتحال بالخصوص تھرڈ فنٹ کی تشکیل پر تبادلہ خیال تھا۔ چار سال کے دوران چیف منسٹر سے ملاقات کرنے والے یہ پہلے کمیونسٹ قائدین تھے، تاہم سی پی ایم نے بھی تھرڈ فرنٹ کو مسترد کرتے ہوئے چیف منسٹر تلنگانہ کو مایوس کردیا۔ حیدرآباد میں سی پی ایم کا قومی اجلاس جاری ہے۔ آج میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے سیتا رام یچوری نے کے سی آر کی جانب سے تشکیل دیئے جانے والے تھرڈ فرنٹ میں شامل ہونے سے انکار کرتے ہوئے اس کو ’’موسیٰ ندی‘‘ قرار دیا اور کہا کہ سی پی ایم، بی جے پی کو مرکزی اقتدار سے بے دخل کرنے کے حق میں ہے مگر اس کی اپنی حکمت عملی ہے۔ سیاسی قراردادوں کی منظوری کے دوران اس پر تفصیلی مباحث کی جائے گی۔ سیاسی قرارداد کے معاملے میں قومی اجلاس میں موجود تمام قائدین کی تجاویز پر غور کیا جائے گا۔ کانگریس سے اتحاد کرنے کے مسئلہ پر پوچھے گئے سوال پر جواب دیتے ہوئے سی پی ایم کے قومی جنرل سیکریٹری نے کہا کہ اس پر بھی پارٹی قائدین میں اختلاف رائے ہے۔ ممکن ہے کانگریس سے مفاہمت بھی نہیں ہوگی۔ انہوں نے بتایا کہ آندھرا پردیش کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کے علاوہ تقسیم ریاست بل میں آندھرا پردیش اور تلنگانہ کیلئے جو وعدے کئے گئے، اس پر بھی تفصیلی مباحث کرتے ہوئے قرارداد منظور کی جائے گی۔ بی جے پی کو اقتدار سے بے دخل کرنے کیلئے کیا اقدامات کئے جائیں، اس پر بھی قومی اجلاس میں غوروخوض کیا جائے گا۔ سیتا رام یچوری نے کہا کہ دو ماہ قبل ہی سیاسی قرارداد کو قطعیت دی گئی ہے۔ پارٹی کے قائدین قراردادوں کیلئے اپنی رائے دے سکتے ہیں۔ ماضی میں پارٹی سے جو غلطیاں سرزد ہوئیں، اس تلافی کرنے کے تمام اقدامات کئے جائیں گے۔ جسٹس لویا کی موت پر سپریم کورٹ کے فیصلے کو بدبختانہ قرار دیا۔ اس مقدمہ کا اعلیٰ دستوری بینچ سے جائزہ لینے کا مطالبہ کیا۔