سی ای او وقف بورڈ کے تقرر میں حکومت کی تساہلی

حیدرآباد ۔15 ۔ اپریل (سیاست نیوز) اقلیتوں کے مسائل سے حکومت کی دلچسپی اور حکومت و اعلیٰ عہدیداروں کے احکامات کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ حالیہ عرصہ میں کئی احکامات کو ماتحت عہدیداروں نے نظر انداز کردیا۔ اگرچہ اس طرح کے احکامات کی طویل فہرست ہے، تاہم صرف دو اہم احکامات سے قارئین کو واقف کراتے ہیں۔ حکومت نے وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے 30 جنوری 2015 ء کو جی او آر ٹی 49 کے ذریعہ محمد اسد اللہ ڈپٹی کلکٹر و اسسٹنٹ سکریٹری دفتر سی سی ایل اے حیدرآباد کو چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ مقرر کیا تھا۔ محکمہ مال نے محمد اسد اللہ کی خدمات محکمہ اقلیتی بہبود کے حوالے کی تاکہ انہیں فوری اثر کے ساتھ چیف اگزیکیٹیو آفیسر وقف بورڈ مقرر کیا جائے لیکن تقریباً ڈھائی ماہ گزرنے کے باوجود آج تک ان احکامات پر عمل آوری نہیں کی گئی۔ اس سلسلہ میں جب کبھی اقلیتی بہبود کے اعلیٰ عہدیداروں سے معلومات حاصل کی گئیں تو ان کا کہنا تھا کہ سی سی ایل اے کے دفتر سے بہت جلد محمد اسد اللہ کو ریلیو کردیا جائے گا اور وہ وقف بورڈ میں اپنی نئی ذمہ داری سنبھال لیں گے۔ وقف بورڈ کے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدہ پر تقرر کیلئے ڈپٹی کلکٹر رینک کے عہدیدار کی شرط ہے اور حکومت نے اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے مقصد سے ریونیو ڈپارٹمنٹ سے تعلق رکھنے والے اس عہدیدار کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا تھا ۔ وقف ریکارڈ کو ریونیو ریکارڈ کے مطابق بنانے کیلئے محمد اسد اللہ کی خدمات اہمیت کی حامل تھیں لیکن آج تک احکامات پر عمل آوری کا نہ ہونا حکومت کی عدم سنجیدگی کو ظاہر کرتا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقف بورڈ میں موجود بعض عناصر اور اوقافی جائیدادوں کے معاملات میں ملوث افراد محمد اسد اللہ کے تقرر میں رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کا دعویٰ کرنے والی حکومت خاموش کیوں ہے؟ واضح رہے کہ جس وقت اسد اللہ کے تقرر کے احکامات جاری کئے گئے، اس وقت چار ماہ سے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کا عہدہ خالی تھا اور اب یہ مدت بڑھ کر 7 ماہ ہوچکی ہے۔ ایک طرف وقف بورڈ میں 24 مارچ سے اسپیشل آفیسر موجود نہیں تو دوسری طرف بورڈ کے لاء آفیسر سلطان محی الدین چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی زائد ذمہ داری سنبھالے ہوئے ہیں۔ وقف بورڈ کی کارکردگی بہتر بنانے کیلئے اسپیشل آفیسر اور چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عہدوں پر رتبہ کے اعتبار سے عہدیداروں کا تقرر لازمی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ حکومت کے تساہل اور وقف لابی کے اثر انداز ہونے کے سبب وقف بورڈ کا کوئی پرسان حال نہیں۔ اعلیٰ عہدیداروں کے احکامات کو نظر انداز کرنے کی دوسری مثال اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود سید عمر جلیل کی 24 مارچ کو دی گئی تحریری ہدایت ہے جسے وقف بورڈ کے عہدیداروں نے نظر انداز کردیا۔ سید عمر جلیل نے چیف اگزیکیٹیو آفیسر کو تحریری طور پر ہدایت دی تھی کہ حج ہاؤز کی عمارت میں موجود غیر سرکاری دفاتر کے تخلیہ کی کارروائی شروع کی جائے اور تمام غیر سرکاری اداروں کو تخلیہ کی نوٹس دی جائے تاکہ عمارت کو سرکاری مقاصد کے لئے استعمال کیا جاسکے۔

اسپیشل سکریٹری کی ہدایت کے باوجود آج تک وقف بورڈ کی جانب سے حج ہاؤز میں موجود خانگی اداروں کو نوٹس جاری نہیں کی گئی۔ بتایا جاتا ہے کہ بعض عہدیدار حج ہاؤز میں موجود خانگی اداروں سے ہمدردی رکھتے ہیں اور وہ تخلیہ کی کارروائی کے حق میں نہیں۔ نوٹس کی اجرائی کے سلسلہ میں کبھی چیف اگزیکیٹیو آفیسر کی مصروفیت تو کبھی اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی کا بہانہ بنایا جارہا ہے۔ حکومت بھی اس معاملہ میں پیچھے نہیں۔ ہائی کورٹ کی جانب سے اسپیشل آفیسر کے تقرر کو کالعدم کرتے ہوئے 24 مارچ کو احکامات جاری کئے گئے تھے لیکن آج تک حکومت نے نہ ہی ڈیویژن بنچ پر اپیل دائر کی اور نہ ہی متبادل انتظام کیا۔ حکومت اچھی طرح جانتی ہے کہ اسپیشل آفیسر کی عدم موجودگی اور مستقل چیف اگزیکیٹیو آفیسر کے عدم تقرر کے باعث بورڈ کی کارکردگی ٹھپ ہوجائے گی۔ اس تناظر میں اوقافی جائیدادوں کے تحفظ اور ترقی سے متعلق حکومت کے دعوے کھوکھلے دکھائی دیتے ہیں۔