سیول سرویسز کی کوچنگ میں اقلیتی امیدواروں کا مایوس کن مظاہرہ

100 امیدواروں میں ایک بھی کوالیفائی نہیں
حیدرآباد ۔ 16 ۔ جولائی (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت کی جانب سے اقلیتی طلبہ کو سیول سرویسز کی کوچنگ کے باوجود نتائج سے عہدیداروں کو مایوسی ہوئی ہے۔ حکومت کے خرچ پر 100 اقلیتی امیدواروں کو نامور خانگی کوچنگ سنٹرس میں 9 ماہ تک کوچنگ کا اہتمام کیا گیا لیکن یونین پبلک سرویس کمیشن کے جاری کردہ پریلمس نتائج میں ایک بھی امیدوار کوالیفائی نہیں ہوا۔ واضح رہے کہ گزشتہ دو برسوں سے سنٹر فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ آف میناریٹیز کی جانب سے طلبہ کو خانگی کوچنگ سنٹرس میں داخلہ دیا جارہا ہے ۔ گزشتہ سال بھی نتیجہ مایوس کن رہا تھا جبکہ جاریہ سال بھی ایک امیدوار منتخب نہ ہوسکا ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ شہر کے نامور کوچنگ سنٹرس حیدرآباد اسٹڈی سرکل ، برین ٹری ، لا ایکسلینس ، آر سی ریڈی ، انالاگ اور ویژن آئی اے ایس میں 9 ماہ کی کوچنگ دی گئی تھی۔ حکومت نے کوچنگ کیلئے ہر طالب علم کی ایک لاکھ 51 ہزار روپئے کی فیس ادا کی ۔ اس کے علاوہ اضلاع کے طلبہ کو ماہانہ 5000 روپئے اور شہر کے طلبہ کو ماہانہ 2,500 اسفائیفنڈ دیا گیا۔ نوٹ بکس کی خریدی کیلئے 3000 روپئے فراہم کئے گئے۔ اس قدر بھاری خرچ کے باوجود ایک بھی امیدوار کا کوالیفائی نہ ہونا عہدیداروں میں مایوسی کا سبب بن چکا ہے۔ حکومت کے مشیر برائے اقلیتی امور اے کے خاں اور ڈائرکٹر اقلیتی بہبود شاہنواز قاسم نے کوچنگ پر خصوصی دلچسپی لی تھی۔ 2014 ء میں جب نظام کالج میں کوچنگ فراہم کی گئی ، اس وقت دو اقلیتی طلبہ پریلمس میں کوالیفائی ہوئے تھے۔