سیاہ فام افراد کی ہلاکتوں کے خلاف کئی امریکی شہروں میں عوام کے مظاہرے

نیویارک 7 ڈسمبر ( سیاست ڈاٹ کام ) کیلیفورنیا میں آج چوتھی رات بھی پولیس کا احتجاجیوں کے ساتھ ٹکراؤ ہوا جبکہ سارے امریکہ میں بھی افریقی امریکن مشتبہ افراد کی سفید فام پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ برکلے ‘ کیلیفورنیا وغیرہ میں احتجاجیوں نے پولیس پر سنگابری کی اور پائپس وغیرہ پھینکے ۔ پولیس نے آنسو گیس کے شیلس داغے اور دھویں کے شیل بھی ہجوم کو منتشر کرنے کیلئے استعمال کئے ہیں۔ پولیس کی ترجمان جینیفر کوٹس نے کہا کہ جھڑپوں اور تصادم کے واقعات میں کئی آفیسرس زحمی ہوئے ہیں اور عمارتوں و کاروں کو بھی نقصان پہونچا کر لوٹ لیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ کئی گروپس الگ الگ ہوکر مظاہرے کر رہے تھے اور انہوں نے پولیس پر پتھراؤ کیا پائپ وغیرہ پھینکے اور دھویں کے شیلس بھی پھینکے گئے ۔ انہوں نے عہدیداروں کو کئی اور طریقوں سے نشانہ بنایا ۔ انہوں نے کہا کہ کئی پولیس عہدیدار ان واقعات میں زخمی ہوئے ہیں اور ایک آفیسر کو شدید زخم آنے پر دواخانہ میں علاج کیا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ 20 نومبر کو ایک غیر مسلح سیاہ فام شخص کو نیویارک میں سفید فام پولیس عہدیداروں نے گولی مار کر ہلاک کردیا تھا ۔ اس کی تدفین آج انجام دی گئی جس کے بعد یہ احتجاجی مظاہرے پھوٹ پڑے ۔ دو سالہ لڑکی کے باپ 28 سالہ اکائی گرلے کو ایک پولیس عہدیدار نے بروکلین کے اپارٹمنٹ کی سیڑھیوں پر اس وقت گولی مار دی تھی جب وہ اپنی گرل فرینڈ کے ساتھ وہاں موجود تھا ۔ آج تدفین کے موقع پر براؤن میمورئیل بیپٹسٹ چرچ میں اکائی گرلے کے رشتہ داروں اور دوست احباب نے اسے خراج پیش کیا اور پھر اس کی تدفین عمل میں لائی گئی ۔ گرلے کی والدہ فلوریڈا میںرہتی ہیں اور اس نے اپنی بیٹی سے اپنی ماں کو ملانے وہاں کا دورہ کرنے کا ارادہ کیا تھا ۔

گرلے کی آخری رسومات میں شرکت کرنے والوں نے انصاف کیلئے زور دیا ہے ۔ سماجی کارکن کیون پاویل نے نیویارک کے مئیر کی جانب سے تدفین کے اخراجات کی ادائیگی پر ان سے اظہار تشکر کیا اور کہا کہ حالات کو بدلنا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ اکائی معصوم اور بے گناہ تھا ۔ یہ عصر حاضر کا قتل ہے ۔ اکثر ایسا ہوتا آیا ہے اور اکائی گرلے اس کا تازہ ترین شکار ہوا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بلاارادہ قتل کے الزامات عائد کرکے مقدمہ چلایا جانا چاہئے ۔ انہوں نے علاوہ ازیں پولیس میں اصلاحات کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے اور کہا کہ سارے امریکہ میں عوام سفید فام پولیس عملہ کی جانب سے سیاہ فام غیر مسلح افراد کو نشانہ بنائے جانے پر احتجاج کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں وہ سب کچھ کرنا چاہئے جس کے ذریعہ ہم مستقبل میں اس طرح کے واقعات کا اعادہ روک سکتے ہیں۔