ٹورنٹو 23 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) کناڈا کے اشتراک سے کئے گئے ایک جائزہ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ تمباکو تیار کرنے والی کمپنیاں اپنے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے اسلامک اسکالرس کی خدمات حاصل کر رہی ہیں اور امدادی کاموں کے دلائل پیش کر رہی ہیں ۔ یہ سب کچھ مسلمانوں میں تمباکو نوشی کی مخالفت کا جواب دینے کیا جا رہا ہے ۔ تمباکو تیار کرنے والی کمپنیوں نے جو حکمت عملی تیار کی ہے اس کے مطابق مک گل یونیورسٹی میں مسلم ماہرین کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور تمباکو نوشی کے مذہبی اعتراض کو تخریب کاری کی ایک شکل قرار دیا جا رہا ہے ۔ اس کے علاوہ تمباکو نوشی کو آزادی اور ماڈرن ازم سے بھی تعبیر کیا جا رہا ہے ۔ تمباکو صنعت پر کئے گئے ایک مطالعہ کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے ۔ وانکوور سائمن فریسر یونیورسٹی میں عالمی صحت پالیسی کے ایک ماہر کیلی لی کا کہنا ہے کہ تمباکو صنعت ان برادریوں کے ثقافتی عقائد کو مسخ کر کے اور غلط انداز میں پیش کر رہی ہے تاکہ تمباکو صنعت کے مفادات کا تحفظ کیا جاسکے ۔ ان کمپنیوں کا مقصد ایسی شئے کی فروخت کو یقینی بنانا ہے جو اپنے آدھے گاہکوں کو موت کی نیند سلادیتی ہے ۔ چونکہ مغربی ممالک میں سگریٹ نوشی کے رجحان میں کمی آ رہی ہے ایسے میں ان کمنیوں کیلئے مشرق وسطی اور جنوب مشرق ایشیا میں مسلم ممالک اہم مارکٹس بنتے جا رہے ہیں۔ گذشتہ تین دہوں سے ایسے مقامات پر تمباکو صنعت کو درپیش خطرات سے نمٹنے میں یہ صنعت کامیاب بھی رہی ہے ۔ پروفیسر لی اور ان کے ساتھیوں نے 1996 کا ایک برطانوی امریکی تمباکو دستاویز پیش کیا جس میں کہا گیا ہے کہ تمباکو صنعت کو اسلامی خطرہ ہے اور اس میں بڑھتی ہوئی بنیاد پرستی بھی اصل وجہ ہے ۔ ایک دستاویز کا حوالہ دیتے ہوئے ادعا کیا گیا کہ تمباکو صنعت نے ایسے رجحانات کو دیکھتے ہوئے جوابی حکمت عملی تیار کی ہے ۔ اسی حکمت عملی کے تحت مسلم اسکالرس کی خدمات حاصل کی جا رہی ہیں اور تمباکو نوشی مخالف رجحان کو تخریب کاری سے بھی جوڑا جا رہا ہے ۔