ٹی آر ایس فرقہ پرست پارٹی بی جے پی کی حلیف ، عوام کو کانگریس کے حق میں ووٹ کی اپیل
حیدرآباد ۔ 25 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز) : صدر حیدرآباد سٹی کانگریس کمیٹی و امیدوار حلقہ لوک سبھا سکندرآباد انجن کمار یادو نے آج اپنے حامیوں اور کارکنوں کے ساتھ ریالی میں پہونچکر اپنا پرچہ نامزدگی داخل کردیا اور بھاری اکثریت سے کامیابی کے عزم کا اظہار کیا ۔ انجن کمار یادو نے کہا کہ حلقہ لوک سبھا سکندرآباد میں سیکولرازم اور فرقہ پرستی و نیم فرقہ پرستی کے درمیان اصل مقابلہ ہے ۔ کانگریس سیکولر جماعت ہے جس کے ٹکٹ پر وہ مقابلہ کررہے ہیں ۔ بی جے پی فرقہ پرست جماعت ہے اور ٹی آر ایس ، بی جے پی کی حلیف جماعت ہے ۔ کانگریس ٹی آر ایس کے تعلق سے اب تک جو الزامات عائد کرتی تھی اس کی بی جے پی کے ذمہ دار قائد مرکزی وزیر ریلوے پیوش گوئیل نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ٹی آر ایس اس کی حلیف جماعت ہے ۔ ان ریمارکس پر ٹی آر ایس کی خاموشی رضا مندی کے مترادف ہے ۔ انجن کمار یادو نے کہا کہ ٹی آر ایس کو ووٹ دینا بی جے پی کو طاقتور بنانا ہوگا ۔ لہذا وہ حلقہ لوک سبھا سکندرآباد کے عوام بالخصوص اقلیتوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ چیف منسٹر کے سی آر کی میٹھی باتوں پر ہرگز بھروسہ نہ کریں ۔ 2014 میں ہی کے سی آر نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ لیکن آج تک اس کو پورا نہیں کیا گیا اور نہ ہی مستقبل میں بھی کے سی آر مسلمانوں سے کیے گئے وعدے کو پورا کریں گے ۔ پارلیمانی انتخابات میں اصل مقابلہ راہول گاندھی اور نریندر مودی کے درمیان ہے ۔ وزیراعظم نریندر مودی کی 5 سالہ کارکردگی آپ کے سامنے ہیں ۔ حلقہ لوک سبھا سکندرآباد سے مقابلہ کرنے والے امیدواروں کا جائزہ لینے کی انجن کمار یادو نے عوام سے اپیل کی ۔ عوام نے انہیں دو مرتبہ منتخب کیا وہ ہمیشہ عوام کو دستیاب رہے ۔ بی جے پی کے امیدوار کبھی عوام سے ملاقات کرنا بھی گوارہ نہیں کیا ۔ ٹی آر ایس نے ایک نا تجربہ کار قائد کو صرف دولت کے بل بوتے پر انتخابی میدان میں اتارا ہے جن کے والد ریاستی وزیر ٹی سرینواس یادو مخالف تلنگانہ ہیں ۔ جن کا چیف منسٹر نے سرخ قالین پر استقبال کیا ہے ۔ انجن کمار یادو نے انہیں کامیاب بناکر سیکولرازم کو کامیاب بنانے کی عوام سے اپیل کی ۔ اس موقع پر صدر تلنگانہ پردیش کانگریس اقلیت ڈپارٹمنٹ شیخ عبداللہ سہیل جنرل سکریٹری تلنگانہ پردیش کانگریس کمیٹی عظمیٰ شاکر سابق کارپوریٹر ایس محمد واجد حسین کے علاوہ کانگریس کے کئی قائدین اور سینکڑوں کارکن موجود تھے ۔۔