اقلیتی بہبود کے معاملہ میں دونوں حکومتوں کا رویہ سرد مہری کا شکار
حیدرآباد ۔ 7 ۔جولائی (سیاست نیوز) حکومت نے سکریٹریٹ میں تلنگانہ اور سیما آندھرا کے عہدیداروں کے لئے مناسب جگہ فراہم کی ہے جبکہ اقلیتی بہبود کے معاملہ میں دونوں حکومتوں کا رویہ سردمہری کا شکار ہے۔ دونوں ریاستوں کے سکریٹریٹ میں اقلیتی بہبود کیلئے مناسب جگہ فراہم نہیں کی گئی جس کے باعث اقلیتی بہبود کے عہدیداروں اور ملازمین کو کئی ایک مسائل کا سامنا ہے۔ تلنگانہ کے سکریٹری اقلیتی بہبود احمد ندیم کیلئے ابھی تک سکریٹریٹ میں چیمبر الاٹ نہیں کیا گیا۔ جبکہ محکمہ او ایس ڈی میں اپنی مساعی سے تمام سہولتوں سے آراستہ چیمبر حاصل کرلیا ہے۔ تلنگانہ اقلیتی بہبود سے وابستہ ماتحت عہدیداروں اور ملازمین کیلئے دفاتر کی مناسب جگہ دستیاب نہیں ۔ جس کے باعث فائلوں کی حفاظت ایک مسئلہ بن چکی ہے۔ دوسری طرف آندھراپردیش محکمہ اقلیتی بہبود کے عہدیداروں کیلئے ایل بلاک میں جگہ مختص کی گئی لیکن وہ جگہ انتہائی ناکافی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اسپیشل سکریٹری اقلیتی بہبود برائے آندھراپردیش سید عمر جلیل کو جو چیمبر الاٹ کیا گیا وہ بنیادی سہولتوں سے عاری ہے۔ چیمبر کے نام پر صرف ایک چھوٹا کمرہ الاٹ کردیا گیا۔ جس میں وہ فائلوں سے متعلق الماری بھی نہیں رکھ سکتے ہیں۔ اس سے قبل بی بلاک میں ان کا چیمبر موجود تھا جسے تلنگانہ حکومت کے محکمہ امکنہ کے حوالہ کیا گیا۔ تلنگانہ محکمہ جات کے عہدیداروں نے آندھرا حکومت کے عہدیداروں کو دفاتر کے تخلیہ کے لئے زبردست دباؤ بنایا۔ جس کے باعث سید عمر جلیل بنیادی سہولتوں کے بغیر ہی ایل بلاک منتقل ہوگئے۔ اسپیشل سکریٹری کے دفتر کا یہ حال ہے تو پھر ملازمین کی ابتر صورتحال کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ دیگر محکمہ جات سے وابستہ عہدیداروں اور ملازمین نے اپنی پسند کے مطابق چیمبرس اور دفاتر کی جگہ حاصل کرلی لیکن اقلیتی بہبود محکمہ کو یکسر نظر انداز کردیا گیا۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو آئندہ ایک ماہ تک بھی دونوں ریاستوں کے اقلیتی بہبود محکمہ کی کارکردگی کا آغاز نہیں ہوگا۔ سکریٹری اقلیتی بہبود تلنگانہ احمد ندیم جو کمشنر ایکسائز کے عہدہ پر برقرار ہیں ، وہ اکسائز بھون نامپلی سے ہی اقلیتی بہبود کے امور انجام دینے پر مجبور ہیں۔