سوشیل میڈیا کا غلط استعمال کرنے والوں کیخلاف سخت کارروائی

اہانت انگیز ریمارکس پسند کرنے والے بھی شرپسندوں کے ساتھی : وزیر داخلہ مہاراشٹرا

ممبئی ۔ 9 جون (سیاست ڈاٹ کام) سوشیل نیٹ ورکنگ سائٹس پر قابل اعتراض مواد پوسٹ کئے جانے پر پھوٹ پڑنے والے تشدد پر وزیرداخلہ مہاراشٹرا آر آر پاٹل نے آج تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ گذشتہ ایک ہفتہ سے ریاست کے حالات دگرگوں ہے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت مہاراشٹرا قابل اعتراض مواد اپ لوڈ کرنے والوں کے علاوہ ایسے افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی کرے گی جو ایسے مواد کو پسند کرتے ہوئے ’’فارور‘‘ کریں گے۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتہ پونے میں ایک مسلمان آئی ٹی پروفیشنل محسن شیخ کی ہلاکت کے واقعہ کا سخت نوٹ لیتے ہوئے آر آر پاٹل نے یہ بات کہی۔ فیس بک پر چھترپتی شیواجی مہاراج اور بانی شیوسینا آنجہانی بال ٹھاکرے کے خلاف اہانت انگیز ریمارکس فیس بک پر اپ لوڈ کئے گئے تھے جس کے بعد غیر معروف انتہاء پسند گروپ ہندو راشٹر سینا کے کارکنوں نے محسن شیخ کو نشانہ بناتے ہوئے ہلاک کردیا جس کے بعد پونے میں تشدد پھوٹ پڑا تھا۔ یہی نہیں بلکہ گذشتہ شب بھی پونے، ناسک اور کولہاپور میں بی آر امبیڈکر کے خلاف اہانت انگیز ریمارکس فیس بک پر پیش کئے جانے کے بعد حالات بگڑ گئے تھے جہاں برہم کارکنوں نے سرکاری بسوں کو نقصان پہنچایا۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے آر آر پاٹل نے کہا کہ سوشیل میڈیا کا استعمال ساری دنیا میں ہوتا ہے۔ اس کا استعمال اچھے مقاصد کیلئے ہونا چاہئے لیکن یہ دیکھنے میں آرہا ہے غیر سماجی عناصر اس کا استعمال شرانگیزی کیلئے کررہے ہیں کیونکہ حال ہی میں جو واقعات رونما ہوئے ان سے یہی ظاہر ہوتا ہیکہ سوشیل میڈیا کا استعمال شرانگیزی کیلئے ہورہا ہے۔ ایسے افراد جو اہانت انگیز ریمارکس کو پسند کرتے ہوئے اسے ’’فارورڈ‘‘ کرتے ہیں، ایسے لوگ دراصل شرپسندوں کی تائید کرنے کے مترادف ہوں گے اور کچھ ہی دنوں میں آپ دیکھیں گے کہ ایسا کرنے والوں کے خلاف حکومت مہاراشٹرا انتہائی سخت کارروائی کرے گی۔ سوشیل میڈیا پر پیش کئے جانے والے اہانت انگیز مواد کے خلاف ہی عوام اپنا ردعمل ظاہر کررہے ہیں۔ کوئی بھی ایسا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ کسی نے ان کے موبائیل فون کا غلط استعمال کیا کیونکہ اپنے موبائیل کی نگرانی کرنا موبائیل فون کے مالک کی ذمہ داری ہوتی ہے۔