حیدرآباد ی صحافی کی پیشرفت کا حوصلہ افزاء رد عمل ،غریبوں کی مدد کرنے میں ہزاروں افراد کی دلچسپی
حیدرآباد 26 اگست (سیاست نیوز) دنیا کو کسی کاز کے لئے اپنی جانب متوجہ کرنے کے منفرد طریقہ کار سابق میں بھی اختیار کئے جاتے رہے ہیںلیکن حالیہ دنوں میں سوشیل میڈیا کے ذریعہ مختلف طریقہ کار کو بہت جلد شہرت حاصل ہونے لگی ہے ۔ 2013 کے وسط میں شروع ہوا ’’آئیس بکیٹ چیلنج‘‘ اب رائس بکیٹ چیلنج تک پہنچ چکا ہے ۔ مغرب کی اندھی تقلید یقیناً تباہی کا باعث بنتی ہے لیکن مغربی معاشرہ میں جو اچھائیاں اور جو مثبت اقدام نظر آتے ہیں اُن اقدامات کی تقلید یا اُن سے تحریک حاصل کرتے ہوئے اپنے طور پر اقدامات کا آغاز غریب عوام کیلئے بہتری کا باعث ثابت ہوسکتا ہے ۔ آئیس بکیٹ چیلنج کے ذریعہ مغربی ممالک کے علاوہ دنیا بھر کے لاکھوں افراد بالخصوص نامور شہریوں نے ایک مخصوص بیماری کے متاثرین کی امداد کا راستہ تلاش کیا اور آئیس بکیٹ چیلنج کی ویڈیوز فیس بُک پر ڈالتے ہوئے اے این ایس نامی بیماری کی شعور بیداری اور متاثرین کے علاج میں تعاون کیا ۔ آئیس بکیٹ چیلنج قبول کرنے والوں میں بل گیٹس، مارک زوکر برگ، ستیہ ناڈیلہ ، ثانیہ مرزا کے علاوہ دیگر کئی معروف لوگ شامل ہیں جنہوں نے اپنے سر پر آئیس بکیٹ اور ٹھنڈا پانی انڈیلتے ہوئے ویڈیو بنائی اور اسے فیس بُک پر پوسٹ کیا ۔ دنیا ایک جانب آئیس بکیٹ چیلنج کے ذریعہ کچھ لوگوں کی حوصلہ افزائی اور ان کی معاونت کی کوشش کررہی تھی وہیں اس چیلنج سے تحریک حاصل کرتے ہوئے فلسطین میں اسرائیلی دہشت گردی کا شکار غزہ کے ایک صحافی نے ’’ربل (مٹی ) بکیٹ چیلنج‘‘ شروع کیا ۔ ایمن الوال نامی غزہ کے صحافی نے فیس بُک پر ایک پیج تیار کرتے ہوئے سوشیل میڈیا کے ذریعہ دنیا کو ’’ربل بکیٹ چیلنج‘‘ پیش کیا اور ایمن کی یہ تحریک کافی حد تک کامیاب بھی ہوئی جس طرح لاکھوں لوگوں نے آئیس بکیٹ چیلنج میں حصہ لیا اسی طرح مشرق وسطی سے تعلق رکھنے والے کئی ممالک کے نوجوانوں نے فلسطینیوں اور غزہ کے مظلومین سے اظہار یگانگت کیلئے اس چیلنج کو قبول کیا اور اپنے سر سے مٹی انڈیلتے ہوئے غزہ کے درد کو محسوس کرنے کی کوشش کی ۔ ایمن کا کہنا ہے کہ انہوں نے دنیا کو غزہ کی جانب متوجہ کرنے کیلئے یہ اقدام کیا اور دنیا بھر کے ہمدرد نوجوانوں نے ان کی اس تحریک کی سراہنا کرتے ہوئے اس چیلنج کو قبول کیا ۔ انہوں نے بتایا کہ اس چیلنج کا مقصد دنیا کو اس بات کا پیغام دینا ہے کہ ہمارے پاس پانی تک نہیںہے تو ہم آئیس بکیٹ چیلنج کا حصہ کیسے بنیں ؟ ساتھ ہی ساتھ یہ بھی یاد دہانی کروانا ہے کہ غزہ کے عوام اسی طرح مٹی اور دھول سے اٹے زندگی گذار رہے ہیں۔ آئیس بکیٹ چیلنج اور ربل بکیٹ چیلنج کے بعد حیدرآباد سے تعلق رکھنے والی ایک صحافی منجو لتا کلا ندھی نے دونوں سے آگے بڑھتے ہوئے ایک منفرد چیلنج دنیا کے آگے پیش کیا اور اسے نام دیا ’’رائس بکیٹ چیلنج ‘‘ لیکن اس چیلنج کا طریقہ کار کچھ علحدہ ہے ۔ منجو لتا نے ان دو چیلنج کو نظر میںرکھتے ہوئے دنیا بھر کی جانب سے ان چیلنجوں کی حوصلہ افزائی کا مشاہدہ کرنے کے بعد رائس بکیٹ چیلنج شروع کیا اور اس چیلنج کے ذریعہ منجو لتا نے یہ پیغام دیا کہ چاول سر پر اونڈیلنے کے بجائے ایک بکیٹ چاول کسی غریب خاندان تک پہنچادیا جائے تا کہ اس کی ضرورت کو پورا کیا جاسکے ۔ حیدرآبادی صحافی کی جانب سے شروع کئے گئے اس چیلنج کو بھی راتوں رات کافی شہرت حاصل ہوگئی اور دنیا بھر میںلوگوں نے جو کہ سوشیل میڈیا پر موجود ہیں اس رائس بکیٹ چیلنج کو قبول کرنا شروع کردیا ہے ۔ گذشتہ دو یوم کے دوران 22 ہزار افراد نے اس چیلنج کو قبول اور پسند کیا ہے ۔ ہندوستان میں غریب عوام تک غذا کی فراہمی کے عمل میں ہونے والی دشواریوں کو دور کرنے اور غریب کو چاول کی فراہمی یقینی بنانے کیلئے شروع کیا گیا یہ چیلنج گذشتہ دو روز کے دوران شہہ سرخیوں میں پہنچ چکا ہے اور عالمی ذرائع ابلاغ اداروں کی جانب سے اس چیلنج کی سراہنا کی جانے لگی ہے ۔ مغربی ذہن کی اختراع آئیس بکیٹ چیلنج کا سفر اب رائس بکیٹ چیلنج تک پہنچ چکا ہے اگر ضرورت مندوں کی ضرورت پوری کرنے کیلئے مغربی طریقہ کار اختیار کئے جاتے ہیں تو اس میں کوئی قباحت نہیں ہے لیکن مغرب کی اندھی تقلید تہذیبی گراوٹ کا باعث بنتی ہے ۔