کونڈہ سریکھا کی پارٹی میں شمولیت کے موقع پر چندر شیکھر راؤ کا خطاب
حیدرآباد۔/18مارچ، ( سیاست نیوز) ٹی آر ایس سربراہ کے چندر شیکھر راؤ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ لوک سبھا اور اسمبلی دونوں نشستوں کیلئے ٹی آر ایس کے حق میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ بعض گوشوں سے یہ کہا جارہا ہے کہ پارلیمنٹ کیلئے نریندر مودی اور اسمبلی کیلئے ٹی آر ایس کو ووٹ دیا جائے گا۔ انہوں نے کہاکہ نریندر مودی کو ووٹ دینے کیلئے ملک میں بڑی تعداد میں رائے دہندے موجود ہیں اس کے برخلاف تلنگانہ ریاست میں ٹی آر ایس کا دونوں سطح پر مستحکم ہونا ضروری ہے۔ چندر شیکھر راؤ آج تلنگانہ بھون میں ورنگل سے تعلق رکھنے والے سابق وزیر کونڈہ سریکھا، ان کے شوہر کونڈہ مرلی کے علاوہ محبوب نگر کے ونپرتی سے تعلق رکھنے والے تلگودیشم اور کانگریس قائدین کی شمولیت کے موقع پر ایک بڑے جلسہ سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ صرف ٹی آر ایس ہی سنہری تلنگانہ ریاست کو یقینی بناسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ٹی آر ایس لوک سبھا کی 16نشستوں پر کامیابی حاصل کرے تو وہ مرکزی حکومت کو تلنگانہ کیلئے نئے پراجکٹس اور فنڈز کی اجرائی پر مجبور کرسکتی ہے۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ اسمبلی اور لوک سبھا کی نشستوں میں ٹی آر ایس کو اکثریت دلائیں تاکہ قومی سیاست میں بھی ٹی آر ایس اہم رول ادا کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی اور حقوق کی جدوجہد کیلئے مرکز میں ٹی آر ایس کا مستحکم ہونا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی تقسیم کے باوجود ابھی تک آندھرا والوں سے تنازعہ ختم نہیں ہوا۔ کھمم کے 7منڈلوں کو آندھرا میں ضم کردیا گیا جس کے خلاف ٹی آر ایس عدالت سے رجوع ہوگی۔انہوں نے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں ٹی آر ایس تشکیل حکومت کے موقف میں ہوگی اور لوک سبھا کی16نشستوں پر اس کی کامیابی یقینی ہے۔انہوں نے یقین دلایا کہ تلنگانہ ریاست ٹی آر ایس کی قیادت میں ایک سنہری ریاست ہوگی جو بدعنوانیوں سے پاک اور تمام طبقات کیلئے ترقی کے یکساں مواقع فراہم کرے گی۔انہوں نے کہا کہ کمزور طبقات ، اقلیتوں ، خواتین اور دیگر شعبوں کی ترقی کیلئے کئی اہم پروگرام انتخابی منشور میں شامل کئے گئے ہیں۔ بہت جلد پارٹی کا انتخابی منشور جاری کیا جائے گا۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ انتخابی منشور کو عام آدمی تک پہنچائیں۔ کے سی آر نے پارٹی کے سینئر قائد نرنجن ریڈی کے بحیثیت امیدوار حلقہ اسمبلی ونپرتی ( محبوب نگر ) کا اعلان کیا جبکہ کونڈہ سریکھا اور کونڈہ مرلی کے حلقہ جات کے بارے میں کسی بھی اعلان سے گریز کیا۔ انہوں نے پسماندہ علاقوں کی ترقی کے سلسلہ میں ٹی آر ایس کے منصوبوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تلنگانہ ریاست میں اضلاع کی تعداد 14 ہوگی اور غریب عوام کیلئے مفت تعلیم کا انتظام کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ نئی ریاست میں ایس سی، ایس ٹی اور بی سی کے نام پر ہاسٹلس نہیں ہوں گے بلکہ تمام طبقات کیلئے ایک ہی اقامتی اسکول ہوگا جس میں تمام تر سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔ انگلش میڈیم کے ساتھ سی بی ایس سی اور دیگر کورسیس کی تعلیم کا انتظام ہوگا۔ انہوں نے ہر منڈل میں اس طرح کے چار تا پانچ اقامتی اسکولس کے قیام کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ اعلیٰ طبقات اور کمزور طبقات کے طلباء ایک ہی عمارت میں قیام کے ذریعہ ذات پات کے نظام کی نفی کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ تلنگانہ میں کمزور اور پسماندہ طبقات کی تعداد 85فیصد ہے لہذا حکومت ان کی ہمہ جہتی ترقی پر توجہ مرکوز کرے گی۔ اس موقع پر کونڈہ سریکھا نے کہا کہ تلنگانہ ریاست کی ترقی صرف کے سی آر کی قیادت میں ہی ممکن ہے۔ رکن پارلیمنٹ ایم جگنادھم اور دیگر قائدین اس موقع پر موجود تھے۔