سنگھ پریوار عوام کو بیوقوف بنانا چھوڑ دے، بھاگوت کے بیان پر ردعمل

نئی دہلی۔ 18 اگست (سیاست ڈاٹ کام) آر ایس ایس کے سربراہ موہن بھاگوت آج سیاسی پارٹیوں بشمول کانگریس اور سماج وادی پارٹی کی تنقید کا نشانہ بن گئے کیونکہ انہوں نے متنازعہ تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان ایک ہندو ملک ہے اور ہندوتوا اس کی شناخت ہے۔ موہن بھاگوت پر شدید تنقید کرتے ہوئے سینئر کانگریس قائد ڈگ وجئے سنگھ نے اپنے سلسلہ وار ٹوئٹر بیانات میں آر ایس ایس کے سربراہ کو ’’ہٹلر‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سنگھ پریوار کو بھولے بھالے عوام کو سیاست میں مذہب کی آمیزش کے ذریعہ بیوقوف نہیں بنانا چاہئے۔ ڈگ وجئے سنگھ ، وزیراعظم نریندر مودی کے ایک معروف ناقد ہیں۔ ایک دن قبل راشٹریہ سوئم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے سرسنچالک (سربراہ) کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا خیال تھا کہ ایک ہی ہٹلر تیاری کے مرحلے میں ہے، لیکن اب ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان میں دو ہٹلر تیار ہورہے ہیں۔ خدا ہندوستان کو محفوظ رکھے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ہندوتوا کے سناتن دھرم سے کیا تعلق ہے، اگر کوئی شخص اسلام، عیسائیت، سکھ مت، بدھ مت، جین مت یا کسی اور مذہب پر عقیدہ رکھتا ہو تو وہ بھی ہندو ہے؟ موہن بھاگوت جی کو اس کی وضاحت کرنی چاہئے۔ ڈگ وجئے سنگھ نے ٹوئٹر پر تحریر کیا کہ انہیں حیرت ہے کہ کیا لفظ ’’ہندو‘‘ یا ’’ہندوتوا‘‘ ویدوں، اُپنشدوں، گیتا، پُران یا دوسرے کسی مذہبی صحیفہ نے درج ہے۔

آر ایس ایس کو سادہ لوح عوام کو سیاست میں مذہب کے امتزاج کے ذریعہ بیوقوف نہیں بنانا چاہئے۔ ہمیں ہمارے سناتن دھرم اور دوسروں کے ساتھ اس کی رواداری پر فخر ہے۔ موہن بھاگوت پر تنقید کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی نے الزام عائد کیا کہ سنگھ پریوار ’’نفرت اور علیحدگی پسندی‘‘ کی سیاست پر عمل پیرا ہے۔ سماج وادی پارٹی کے ترجمان راجندر چودھری نے کہا کہ وہ ایسے الفاظ اور زبان استعمال کرتے ہیں جس سے سماج میں کشیدگی پیدا ہوجاتی ہے۔ مرکزی وزراء ، بی جے پی اور وشوا ہندو پریشد قائدین کے مختلف متنازعہ بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کانگریس کے قائد منیش تیواری نے کہا کہ ملک میں مذہبی خطوط پر صف آرائی کی ’’منظم کوششیں‘‘ ہورہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صاف ظاہر ہے کہ مرکزی حکومت نے سرگرمی سے اس سازش میں شرکت کرلی ہے اور مذہبی خطوط پر صف آرائی کی کوشش کی جارہی ہے۔ ہندوستان ایک ثقافتی شناخت رکھتا ہے۔ یہ واحد ثقافتی مملکت نہیں ہے۔ ہندوستان، پاکستان نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ موہن بھاگوت جو کل ممبئی میں وشوا ہندو پریشد کے جشن زرّیں تقاریب میں شرکت کررہے تھے، کہا کہ ہندوستان ایک ہندو ملک ہے، ہندوتوا ہماری قومی شناخت ہے اور اس میں دیگر تمام مذاہب کو خود میں سمولینے کی صلاحیت ہے۔ کانگریس قائد آنند شرما نے کہا کہ فرقہ وارانہ دہشت گردی، تشدد اور صف آرائی کی واضح علامات نظر آرہی ہیں۔ بی جے پی اور آر ایس ایس کی تضاد بیانی سے صاف ظاہر ہے کہ وہ خلوص و وابستگی کوئی تعلق نہیں رکھتے۔