سنگاریڈی میں 40 مسلم نوجوان باعزت بری

سنگاریڈی۔/13مئی، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) سنگاریڈی میں 29مارچ 2012 کی شب پیش آئے فرقہ وارانہ فسادات کے بعد پولیس نے سنگاریڈی کے 40سے زائد مسلم نوجوانوں کو مختلف دفعات کے تحت گرفتار کرتے ہوئے ان پر کیس درج کیا۔ گزشتہ تین سال سے مسلم نوجوان انصاف کے منتظر تھے جس کا فیصلہ بالآخر آج ہوگیا۔ عدلیہ نے تمام 40 مسلم نوجوانوں کو تمام مقدمات سے بے قصور پاکر باعزت بری کردیا۔ مسلم نوجوانوں پر منصف کورٹ اور اسسٹیٹ سیشن کورٹ میں جملہ 19مقدمات زیر دوران تھے اور ان تمام کے فیصلے مسلم نوجوانوں کے حق میں ہوئے ہیں۔ ان 19مقدمات میں آج سب سے آخری مقدمہ کا اسسٹنٹ سیشن کورٹ میں فیصلہ سناتے ہوئے تمام کو باعزت بری کردیا۔ مسلم نوجوانوں پر پولیس نے کئی ایک دفعات اور مقدمات درج کئے تھے، کئی نوجوانوں پر 10سے زائد کیس بک کئے گئے تھے۔

منصف کورٹ میں دفعات147، 148،149، 253، 323،324، 336، 353، 435 اور 1208/RW/IPC34 کے تحت مقدمات کی سنوائی ہوئی جبکہ اسسٹنٹ سیشن کورٹ میں147، 148، 149، 253A،307 ، 436 اور دیگر دفعات کے تحت مقدمات کی سنوائی ہوئی۔ منصف کورٹ جج مسٹر پی درگا پرساد اور اسسٹنٹ سیشن کورٹ جج مسٹر شیخ رزاق الزماں نے علحدہ علحدہ مقدمات کے علحدہ فیصلے صادر کئے۔ مسلم نوجوانوں کی بے گناہی ثابت ہوکر عدلیہ سے باعزت برأت کا مسلمانان سنگاریڈی نے زبردست خیرمقدم کرتے ہوئے اس کو حق کی فتح قرار دیا اور تمام کو مبارکباد دی۔ مقدمات میں ایم اے سمیع اور الحاج محمد خواجہ کی جانب سے خواجہ ارشد الدین ایڈوکیٹ، ایم اے مجید اور سید نصیر الدین اجو کی جانب سے گری دھر ایڈوکیٹ، شیخ صابر، شیخ عظمت، شیخ امجد اور شیخ تاج کی جانب سے سی ایچ بسواراج ایڈوکیٹ جبکہ محمد خواجہ نظام الدین ایڈوکیٹ کے ہمراہ محمد عمران، محمد اکبر علی، لطیف الرحمن ایڈوکیٹس کی ٹیم نے شیخ عارف، سمیع انصاری، عابد قریشی، عبدالعزیز، ڈاکٹر غوث، شیخ ابوبکر، سید رفعت، یعقوب علی، خالق احمد، محمد غوث، محمد اسحاق الدین، محمد فاضل عرفان، سید معید الحق، ظہور الدین، شیخ افروز، عبدالمعین، محمد معین، عبدالباری، محمد شاہد، سید عرفان، صابر علی، خلیل الرحمن، ایم اے عزیز، محمد نصیر، جلیل احمد، محمد نصیر، رفیق، معین ڈی جے، شیخ رستم، محمد رحمت احمد شیخ پاشاہ کی جانب سے مقدمات میں کامیاب پیروی و جراح کی۔ آج صبح اسسٹنٹ سیشن کورٹ میں آخری مقدمہ کا فیصلہ صبح 11:30 بجے سنایا گیا جس کے بعد مسلم نوجوانوں نے اللہ رب العزت کی بارگاہ میں شکر ادا کیا اور فرطِ مسرت سے ایک دوسرے سے بغلگیر ہوکر مبارکباد دے رہے تھے۔ فیصلے کے بعد مسلم نوجوانوں نے وکلاء کی گلپوشی کی۔