تھرواننتاپورم۔ 16 فروری (سیاست ڈاٹ کام) سابق مرکزی وزیر ششی تھرور نے آج ذرائع ابلاغ پر اپنا غصہ اتارتے ہوئے الزام عائد کیا کہ وہ ’’من گھڑت‘‘ کہانیاں اور ’’جھوٹی باتیں‘‘ اُن کے بارے میں اُن کی بیوی سنندا پشکر کی پُراسرار حالات میں موت کی تحقیقات کے سلسلے میں پیش کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میرے بارے میں ذرائع ابلاغ کی جھوٹی باتوں کا سیلاب آگیا ہے۔ خاص طور پر کیرالا کے خبر رساں چیانلس پر من گھڑت کہانیاں پولیس ذرائع سے منسوب کرکے بے بنیاد طور پر پھیلائی جارہی ہے۔ کانگریس رکن پارلیمنٹ برائے تیرواننتاپورم نے اپنے ٹوئٹر پر مسلسل کئی تحریریں شائع کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ملک کو زیادہ بہتر اور زیادہ دیانت دار صحافت کی ضرورت ہے۔ ایسی صحافت کی نہیں جو کوئی جھوٹ بات نشر یا شائع کرے جس کا مقصد صرف ٹی آر پی میں اضافہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ کیسی المناک صورتِ حال پائی جاتی ہے، ہم نے ہماری صحافتی آزادی کو کتنی پستی میں اُتار دیا ہے۔ ایک اور ٹوئٹ میں انہوں نے ایک تصویر شائع کی جس کے ہاتھ میں پلے کارڈ ہے، جس پر تحریر ہے: ’’خبردار: ذرائع ابلاغ حقائق کی عکاسی نہیں کرتے‘‘۔ اطلاعات ملی تھیں کہ نئی دہلی کی پولیس نے تھرور کو انتباہ دیا ہے کہ وہ کئی سوالات کے مناسب جواب نہیں دے رہے ہیں جو ان سے ایس آئی ٹی نے کئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایسا کوئی مسئلہ ہے تو انہوں نے مجھے پہلے اطلاع دی ہوتی، ذرائع ابلاغ سے ربط نہ پیدا کرتے۔ ایسی تمام اطلاعات مکمل طور پر بے بنیاد ہیں۔ تھرور نے قبل ازیں کہا تھا کہ وہ اپنے حلقۂ انتخاب کا پانچ روزہ دورہ کررہے ہیں اور نئی دہلی سے باہر جانے کی ایس آئی ٹی سے خصوصی اجازت حاصل کرچکے ہیں۔ پولیس نے قبل ازیں انہیں نئی دہلی سے بلااجازت باہر نہ جانے کی ہدایت دی تھی۔ ششی تھرور نے اپنے ٹوئٹس پر تحریر کیا کہ انہیں سب سے پہلے اس کا احساس ذرائع ابلاغ کے تیار کردہ تنازعات سے ہوا جو ٹوئٹر پر 2009-10ء میں ان کے ہر لفظ کو متنازعہ بنادیا تھا۔ تھرور نے کہا کہ اوہام کا کوئی علاج نہیں ہے۔ ذرائع ابلاغ کی کہانیاں پڑھنے یا دیکھنے سے پہلے حقیقت کے بارے میں معلومات حاصل کرلینا چاہئے۔ سنندا پشکر کی موت ایک فائیو اسٹار ہوٹل کے کمرہ میں پُراسرار حالات میں ہوئی تھی۔ اس سلسلے میں پولیس کو اس کے شوہر ششی تھرور پر بھی شک ہے۔