نئی دہلی ۔23نومبر ( سیاست ڈاٹ کام ) اپنے ناقدین کا مقابلہ کرتے ہوئے مرکزی وزیر برائے فروغ انسانی وسائل سمرتی ایرانی نے آج ان الزامات کو مسترد کردیا کہ تعلیمات کو بھگو رنگ دیا جارہا ہے ۔ انہوں نے سنسکرت کے نصاب تعلیم میں لازمی طور پر شامل کرنے کے مطالبات بھی مسترد کردیئے ۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے ہیڈ کوارٹرس پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ مجھ پر آر ایس ایس کا نقاب ہونے کا الزام عائدکرتے ہیں غالباً چاہتے ہیں کہ میرے اچھے کام سے لوگوں کی توجہ ہٹائی جائے ۔ اس کارروائی کا آغاز کردیا گیا ہے اور جب تک وہ اس عہدہ پر برقرار رہیں گی اور اچھا کام کرتی رہیں گی انہیں تنقید کا نشانہ بناتاجاتا رہے گا ‘ تاہم وہ اس کیلئے تیار ہیں اور انہیں کوئی مسئلہ درپیش نہیں ہے ۔ جرمن کی جگہ سنسکرت کو 500 کیندریا ودیالیہ میں تیسری زبان قرار دینے کے متنازعہ فیصلہ کے بارے میں سوالوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے مذکورہ بالا وضاحت کی ۔