سلامتی کونسل کی بے عملی پر انسانی حقوق سربراہ کی تنقید

اقوام متحدہ 22 اگسٹ (سیاست ڈاٹ کام) سلامتی کونسل سے اپنے آخری خطاب میں اقوام متحدہ کے انسانی حقوق شعبہ کی سربراہ نوی پلّے نے سلامتی کونسل کی شام کی خانہ جنگی پر بے عملی کا مظاہرہ کرنے پر سخت تنقید کی۔ اُنھوں نے کہاکہ رکن ممالک اکثر اپنے قومی مفادات کو اجتماعی مظالم پر فوقیت دیتے ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ اُن کو یقین واثق ہے کہ اِس کونسل کی عظیم تر ذمہ داریاں لاکھوں انسانی جانوں کو ضائع ہونے سے بچا سکتی تھیں۔ نوی پلّے کی میعاد بحیثیت سربراہ انسانی حقوق ہائی کمشنر اقوام متحدہ 30 اگسٹ کو ختم ہورہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ شام کا تنازعہ بے قابو ہوچکا ہے۔ ہم اِس کے قطعی نتائج کی پیش قیاسی نہیں کرسکتے۔ اُنھوں نے افغانستان، وسطی جمہوریہ افریقہ، کانگو، عراق، لیبیا، مالی، صومالیہ، جنوبی سوڈان، سوڈان، یوکرین اور غزہ پٹی کے تنازعات کا بھی حوالہ دیا اور کہاکہ اِن تمام ممالک کے بحران سے صاف ظاہر ہے کہ بین الاقوامی برادری تنازعات کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ اِن بحرانوں میں سے کوئی بھی بغیر کسی انتباہ کے دھماکے سے پھٹ سکتا ہے۔ اُنھوں نے سلامتی کونسل کی بے عملی پر سخت تنقید کی اور مسائل حل کرنے کے لئے اپنی شخصی تجاویز پیش کیں۔ اُنھوں نے تجویز پیش کی کہ سلامتی کونسل کو نئی کارروائیوں کی ایک فہرست تیار کرنی چاہئے۔