سلامتی کونسل میں اصلاحات کا فیصلہ کن سال : ہندوستان

اقوام متحدہ ، 13 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان نے اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ 2015ء وہ سال ہے جو سلامتی کونسل میں اصلاحات کیلئے جس میں کافی تاخیر ہوچلی ہے، فیصلہ کن اقدامات کا متقاضی ہے، اور زور دیا کہ بامقصد پیشرفت کیلئے جامع مسودہ پر مذاکرات شروع کی جائیں۔ بین حکومتی مذاکرات (آئی جی این) کا گیارہواں راؤنڈ سابقہ ادوار کی مانند نہیں ہونا چاہئے جہاں کسی مسودے کے بغیر غوروخوض ہوتا رہا اور کوئی نتیجہ اخذ نہ کیا جاسکا، سفیر بھگونت بشنوئی نے یہ بات کہی، جو کارگزار مستقل نمائندہ برائے اقوام متحدہ ہیں۔ انھوں نے کہا کہ 2015ء ’’سنگ میل سال‘‘ ہے کیونکہ یہ یو این کے 70 ویں سال کی تکمیل کا موقع ہے۔ بشنوئی نے کہا کہ یہ فیصلہ کن کارروائی کا سال ہے۔ ہمارے لئے آئی جی این کا 11 واں راؤنڈ ماضی کے راؤنڈز کی طرح ثابت ہو تو قابل قبول نہیں ہوگا۔ ایسی صورت میں ہمارے لئے اس عمل میں بامعنی انداز میں مشغول رہنا نہایت مشکل ہوجائے گا۔ سفیر موصوف نے یہ بات ایک تیاری اجلاس کے دوران کہی جو 11 فبروری کو منعقد ہوا۔ اس موقع پر رکن مملکتوں کی زبردست اکثریت نے آئی جی این چیئر پر زور دیا کہ مذاکرات کی شروعات میں کوئی ٹھوس متن بھی پیش کیا جائے۔