سلامتی کونسل صرف قراردادیں منظور کرتی ہے اور کچھ نہیں …

روہنگیا خواتین کی عصمت ریزی معاملہ کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ سے رجوع کیا جائے
خاتون وکیل رضیہ سلطانہ کے حیران کن انکشافات، مباحثہ سے ڈپٹی سکریٹری
جنرل امینہ محمد اور خصوصی نمائندہ پرمیلا پٹن کا خطاب

اقوام متحدہ ۔ 17 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) ایک روہنگیا وکیل نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ہوئے مباحثہ میں حصہ لیتے ہوئے بے باکانہ انداز میں کہا کہ سلامتی کونسل روہنگیا پناہ گزین بحران کو روکنے میں ناکام ہوگئی ہے جبکہ اس 15 رکنی مجلس کو روہنگیاؤں کے خلاف جنسی جرائم اور دیگر جرائم کے معاملات کو انٹرنیشنل کریمنل کورٹ سے رجوع کرنا چاہئے۔ خاتون وکیل رضیہ سلطانہ نے سلامتی کونسل کے کھلے مباحثہ میں جنسی تشدد کی روک تھام کیلئے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت وہ جہاں سے آئی ہیں وہاں خواتین اور لڑکیوں کی اجتماعی عصمت ریزی کی جارہی ہے۔ میانمار کی فوج ان سے زیادتی کررہی ہے اور تشدد کے ایسے واقعات رونما ہورہے ہیں جنہیں دیکھ کر اور سن کر انسانیت شرمسار ہوجائے۔ اذیت رسانی کے دوران کئی لوگوں کو ہلاک بھی کیا گیا ہے۔ اس مباحثہ سے ڈپٹی سکریٹری جنرل امینہ محمد اور جنسی تشدد پر سکریٹری جنرل کی خصوصی نمائندہ پرمیلا پٹن نے خطاب کیا۔ یاد رہیکہ سلامتی کونسل نے فیصلہ کیا ہیکہ جاریہ ماہ کے اواخر میں میانمارکا دورہ کیا جائے گا اور ساتھ ہی ساتھ بنگلہ دیش جاکر بھی حالات معلوم کئے جائیں گے جہاں وسائل کی کمی کے باوجود بھی اس چھوٹے سے ملک نے لاکھوں روہنگیاؤں کو پناہ دے رکھی ہے جو آج کے زمانے میں ایک قابل ستائش کام ہے۔ رضیہ سلطانہ نے کونسل کے ارکان سے خواہش کی کہ وہ میانمار کے دورہ کے دوران بچ جانے والی خواتین اور لڑکیوں سے ضرور ملاقات کریں۔

گذشتہ سال اگست سے اب تک سات لاکھ روہنگیا مسلمان فرار ہوکر بنگلہ دیش پہنچ چکے ہیں۔ روانڈہ میں کی گئی نسل کشی کے دلسوز واقعات کے بعد اتنی بڑے پیمانے پر ہجرت کا یہ دوسرا واقعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری خصوصی طور پر سلامتی کونسل نے ہمیں ناکام کردیا۔ اگر 2012ء سے ہی انتباہی علامات کو نظرانداز کیا جاتا تو آج اس تازہ ترین بحران کو ٹالا جاسکتا تھا۔ جنگ و جدال کے دوران جنسی تشدد کو اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کی رپورٹ میں میانمارکی فوج کو پہلی بار شامل کیا گیا ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کونسل میانمار کی تازہ ترین صورتحال کو بین الاقوامی کریمنل کورٹ سے بلا تاخیر رجوع کرنا چاہئے۔ رضیہ سلطانہ نے مزید کہاکہ خود ان کی تحقیق اور انٹرویوز سے یہ ثبوت سامنے آئے ہیں کہ راکھین اسٹیٹ میں سرکاری فوج نے زائد از 300 خواتین اور لڑکیوں کی عصمت ریزی کی جبکہ 350 مواضعات پر حملہ کرکے انہیں جلادیا گیا جبکہ حقیقت میں ان مواضعات کی تعداد کہیں زیادہ ہوسکتی ہے۔ 6 سال کی معصوم بچیوں تک کو نہیں بخشا گیا اور ان کے ساتھ منہ کالا کیا گیا۔ سلامتی کونسل صرف قراردادیں منظور کرتی ہے اور اس کے بعد کچھ نہیں کیا جاتا۔ سب کچھ کاغذ پر دھرا کا دھرا رہ جاتا ہے۔ پرمیلا پٹن نے کہا کہ بات صرف قراردادوں تک محدود ہے جبکہ مسائل کی یکسوئی کیلئے عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔ یہ بھی ایک حیرت انگیز بات ہے کہ بوکوحرام اور دولت اسلامیہ گروپ کے کسی بھی فرد کو جنسی تشدد برپا کرنے پر بین الاقوامی جرم کے تحت قابل سزاء تصور نہیں کیا گیا ہے۔ بوکوحرام نے تو اسکولی بچیوں کا اغواء کر رکھا ہے۔ ان میں سے کچھ بچیوں کو رہا کیا گیا ہے لیکن مابقی کے ساتھ کیا سلوک ہورہا ہے اور ان کا کیا حشر ہونے والا ہے، یہ صرف اللہ ہی جانتا ہے۔