دولت اسلامیہ کے
امکانی حملوں کے پیش نظر سکیوریٹی میں سخت ترین اضافہ
دوبئی 10 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ گروپ اب اپنی غیر اسلامی اور تخریبی سرگرمیوں کو سعودی عرب تک وسعت دینے کا ارادہ رکھتا ہے جس کے لئے اس نے اب سعودی عرب پر اپنی نگاہیں مرکوز کی ہیں اور یہ توقع بھی کی جارہی ہے کہ دولت اسلامیہ مزید نئی بھرتیاں بھی کرے گا تاکہ اپنی انتہا پسند سرگرمیوں کا سلسلہ جاری رکھے۔ دولت اسلامیہ امریکہ کی تائید والی سعودی شاہی خاندان کو روبہ زوال دیکھنا چاہتا ہے جس سے اب یہ اندیشے بھی پیدا ہورہے ہیں کہ جاریہ ماہ کے اواخر میں حج بیت اللہ کا سالانہ اجتماع بھی کہیں متاثر نہ ہوجائے۔
مملکت سعودی عرب میں دولت اسلامیہ کی موجودگی اب تک صرف ادنیٰ پیمانے پر تھی لیکن مئی سے اب تک چار بم دھماکے ہوچکے ہیں جن میں سے ایک پڑوسی ملک کویت میں بھی کیا گیا تھا جو یقینا باعث تشویش ہے۔ دولت اسلامیہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کو بھی اب اقتدار سے بیدخل کرنے کا خواہاں ہے جبکہ سعودی شاہی خاندان نے ہمیشہ سے یہ ادعا کیا ہے کہ ملک میں شرعی قوانین کے نہ صرف اطلاق بلکہ اس کے تحفظ کا بھی شاہی خاندان ہی ذمہ دار ہے اور ساتھ ہی دو انتہائی مقدس شہروں مدینہ منورہ اور مکہ مکرمہ کا محافظ بھی شاہی خاندان ہے اور شاید یہی وجہ ہے کہ سعودی عرب کے فرمانرواؤں کو خادم حرمین شریفین کا لقب بھی دیا جاتا رہا ہے۔ دریں اثناء سعودی عرب کے ایک تجزیہ نگار فہد نذر نے دولت اسلامیہ کے دیگر نام ’’داعش‘‘ کے استعمال کے لئے اُس کے عربی مخفف کا حوالہ دیا یعنی داعش (دولت اسلامیہ عراق و شام) اور کہاکہ دولت اسلامیہ سعودی عرب کے شاہی خاندان کے لئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کو سب سے بڑا انعام سمجھتا ہے۔ گزشتہ ماہ ہوئے بم دھماکے کی ذمہ داری دولت اسلامیہ نے قبول کی تھی اور اس طرح سعودی عرب میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا تھا۔ ایسے شورش پسند جنھوں نے دولت اسلامیہ سے اپنی وفاداری کا مظاہرہ کیا ہے اُنھوں نے اب تک تین بم دھماکے کئے ہیں جن میں مئی میں دو بم دھماکے سعودی عرب کے مشرقی علاقے میں اور جون کے مہینہ میں کویت میں دھماکے کئے گئے تھے۔
اُن دھماکوں کے ذریعہ صرف شیعہ مساجد کو ہی نشانہ بنایا گیا تھا جس میں 53 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔ تاہم 6 اگسٹ کو ایک خودکش بم حملہ آور نے سعودی عرب کے مغربی علاقہ کو نشانہ بنایا جہاں ایک پولیس کمپاؤنڈ کے اندر واقع مسجد کو نشانہ بنایا گیا جس میں 15 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔ 15 مہلوکین کے منجملہ گیارہ کا تعلق انسداد دہشت گردی یونٹ سے تھا جن کے فرائض میں سعودی عرب آنے والے عازمین حج کی حفاظت بھی شامل تھی۔ ماہ اگسٹ میں جو حملے ہوئے تھے اس کی ذمہ داری دولت اسلامیہ سے ملحقہ ایک اور گروپ ’’حجاز پروونس‘‘ نے لی تھی اور اس طرح دولت اسلامیہ نے حجاز میں اپنی کسی ضمنی شاخ کی موجودگی کا بھی انکشاف کیا تھا جبکہ قبل ازیں کئے گئے دھماکوں کی ذمہ داری نجد پروونس نے لی تھی جو السعود خاندان کا آبائی مقام بھی کہا جاتا ہے۔ دریں اثناء واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ میں گلف سکیوریٹی کے تجزیہ نگار لوری بورگاٹ نے کہاکہ دولت اسلامیہ نے اگر حج جیسے مقدس ترین فریضہ کے موقع پر عاززین حج کی اتنی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے اگر صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کچھ حملے کئے تو ہمیں حیرت نہیں ہونی چاہئے۔ جاریہ سال مناسک حج کا آغاز 21 ستمبر سے ہوگا جہاں توقع ہے کہ اقطاع عالم سے تقریباً 30 لاکھ عازمین حج کی سعادت حاصل کریں گے۔